Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
137 - 278
میں اس لائق نہیں، مجھے اپنی پڑی ہے(1)، تم کسی اور کے پاس جاؤ! (2) عرض کریں گے، کہ آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں...؟ فرمائیں گے(3): تم ابراہیم خلیل اﷲ کے پاس جاؤ(4)، کہ اُن کو اﷲ تعالیٰ نے مرتبہ خُلّت سے ممتاز فرمایا ہے(5)، لوگ یہاں حاضر ہوں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اِس کے قابل نہیں، مجھے اپنا اندیشہ ہے۔ 

    مختصر یہ کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کی خدمت میں بھیجیں گے، وہاں بھی وہی جواب ملے گا،پھر موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کے پاس بھیجیں گے، وہ بھی یہی فرمائیں گے: کہ میرے کرنے کا یہ کام نہیں(6)، آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے، کہ ایسا نہ کبھی فرمایا، نہ فرمائے، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ(7)، لوگ عرض کریں گے: آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں؟ فرمائیں گے: تم اُن کے حضور حاضر ہو، جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی، جو آج بے خوف ہیں(8)، اور وہ تمام اولادِ آدم کے سردارہیں، تم محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، وہ خاتم النبیین ہیں، وہ آج تمہاری شفاعت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ((فیقولون: یا نوح، اشفع لنا إلی ربنا فلیقض بیننا، فیقول: إني لست ہناکم...، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً، المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳.

2۔۔۔۔۔۔ ((اذھبوا إلی غیري)). ''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر، باب:(ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِ نَّہ،... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.

3۔۔۔۔۔۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول)).''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳.

4۔۔۔۔۔۔ ((لکن ائتوا إبراہیم خلیل اللہ علیہ السلام)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳.

5۔۔۔۔۔۔ (( فإن اللہ ۔عزوجل۔ اتخذہ خلیلاً)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱.

6۔۔۔۔۔۔ ((فیأتون إبراہیم، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا موسی علیہ السلام، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا عیسی روح اللہ، وکلمتہ فیأتون عیسی، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳۔۶۰۴.

7۔۔۔۔۔۔ ((فیقول عیسی: إنّ ربي قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي نفسي، اذھبوا إلی غیري))، ملتقطاً. ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّہ،... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.

8۔۔۔۔۔۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول: ائتوا عبداً فتح اللہ علی یدیہ، ویجيء في ھذا الیوم آمنا محمداً)). 

''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً.
Flag Counter