Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
136 - 278
شفاعت کیجیے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس سے نجات دے۔ (1) فرمائیں گے: میرا یہ مر تبہ نہیں ، مجھے آج اپنی جان کی فکر ہے(2)، آج رب عزوجل نے ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ پہلے کبھی ایسا غضب فرمایا، نہ آئندہ فرمائے، تم کسی اور کے پاس جاؤ!(3) لوگ عرض کریں گے: آخر کس کے پاس ہم جائیں...؟ فرمائیں گے(4): نُوح کے پاس جاؤ، کہ وہ پہلے رسول ہیں کہ زمین پر ہدایت کے لیے بھیجے گئے(5)، لوگ اُسی حالت میں حضرت نُوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اُن کے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے کہ(6): آپ اپنے ربّ کے حضورھماری شفاعت کیجیے کہ وہ ھمارا فیصلہ کر دے، یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ عن أنس رضي اللہ عنہ: أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یحبس المؤمنون یوم القیامۃ حتی یھموا بذلک، فیقولون: لو استشفعنا إلی ربنا فیریحنا من مکاننا، فیأتون آدم فیقولون: أنت آدم أبو الناس، خلقک اللہ بیدہ، وأسکنک جنتہ، وأسجد لک ملا ئکتہ، وعلمک أسماء کل شيئ، لتشفع لنا عند ربک حتی یریحنا من مکاننا ھذا، قال: فیقول: لست ھناکم)). 

''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: (وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ... إلخ)، الحدیث: ۷۴۴۰، ج۴، ص۵۵۴.

وفي روایۃ ''صحیح البخاري'': قال: ((وتدنو منھم الشمس، فیقول بعض الناس: ألا ترون إلی ما أنتم فیہ؟ إلی ما بلغکم؟ ألا تنظرون إلی من یشفع لکم إلی ربکم؟ فیقول بعض الناس: أبوکم آدم، فیأتونہ، فیقولون: یا آدم، أنت أبو البشر، خلقک اللہ بیدہ ونفخ فیک من روحہ، وأمر الملائکۃ فسجدوا لک، وأسکنک الجنۃ، ألا تشفع لنا إلی ربک، ألا تری ما نحن فیہ وما بلغنا؟)). کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلَی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵.

    وفي روایۃ ''المسند''، الحدیث: ۱۵، ج۱،ص۲۱: ((فقالوا: یا آدم أنت أبو البشر، وأنت اصطفاک اللہ ۔عزوجل۔ اشفع لنا إلی ربک)).

2۔۔۔۔۔۔ ((فیقول: إني لست ہناکم...، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً. 

     ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۱، ص۶۰۳، الحدیث: ۲۵۴۶، .

3۔۔۔۔۔۔ ((فیقول: ربي غضب غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ولا یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي، اذہبوا إلی غیري))، ''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلَی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول)). ''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ،ج۲، ص۳۸۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ((ائتوا نوحاً فإنّہ أوّل رسول بعثہ اللہ إلی أھل الأرض)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: (لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ)، الحدیث: ۷۴۱۰، ج۴، ص۵۴۲.

6۔۔۔۔۔۔ ((فیأتون نوحاً فیقولون: یا نوح أنت أوّل الرسل إلی أھل الأرض، وسماک اللہ عبداً شکوراً)). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قول اللہ تعالی: (اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا اِلٰی قَوْمِہٖ...إلخ)، الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵.
Flag Counter