| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
فرمائیں گے، اُنھیں کے حضور حاضر ہو، وہ یہاں تشریف فرما ہیں۔ (1)
اب لوگ پھِرتے پھِراتے، ٹھوکریں کھاتے، روتے چلّاتے، دُہائی دیتے حاضرِ بارگاہِ بے کس پناہ ہو کر عرض کریں گے(2): اے محمد! (3) اے اﷲ کے نبی! حضور کے ہاتھ پر اﷲ عزوجل نے فتحِ باب رکھا ہے، آج حضور مطمئن ہیں(4)، اِن کے علاوہ اور بہت سے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے: حضور ملاحظہ تو فرمائیں ہم کس مصیبت میں ہیں! اور کس حال کو پہنچے! حضور بارگاہِ خداوندی میں ھماری شفاعت فرمائیں اورہم کو اس آفت سے نجات دلوائیں۔ (5) جواب میں ارشاد فرمائیں گے: ((أَنَا لَھَا))(6) میں اس کام کے لیے ہوں، ((أنَا صَاحِبُکُمْ))(7) میں ہی وہ ہوں جسے تم تمام جگہ ڈھونڈ آئے، یہ فرماکر بارگاہِ عزّت میں حاضر ہوں گے اور سجدہ کریں گے، ارشاد ہوگا:ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ((لکن انطلقوا إلی سید ولد آدم، انطلقوا إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع لکم إلی ربکم عز وجل))، ملتقطاً.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱.
وفي روایۃ: ((إنّ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین وقد حضر الیوم)).
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل: الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۴.
2۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے مخصوص انداز میں ان الفاظ کے ساتھ اس محشر کے دن کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں :''اب وہ وقت آیا کہ لوگ تھکے ہارے ، مصیبت کے مارے ، ہاتھ پاؤں چھوڑے ، چار طرف سے امیدیں توڑے ، بارگاہِ عرش جاہ، بیکس پناہ، خاتم دورہ رسالت ، فاتح بابِ شفاعت، محبوب باوجاہت، مطلوب بلند عزت، ملجاء ِعاجزاں، ماوٰی بیکساں، مولائے دوجہان، حضور پرنور محمد رسول اللہ شفیع یوم النشور، افضل صلوات اللہ واکمل تسلیمات اللہ وازکیٰ تحیات اللہ وانمی برکات اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وعیالہ میں حاضر آئے، اور بہزاراں ہزار نالہائے زار ودلِ بیقرار وچشمِ اشکبار یوں عرض کرتے ہیں۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۲۲۳.
3۔۔۔۔۔۔ (( یا محمد)). ''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب: (ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا... إلخ)، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰.
4۔۔۔۔۔۔ ((یا نبي اللہ! أنت الذي فتح اللہ بک وجئت في ھذا الیوم آمنا)).
''الخصائص الکبری''، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً.
5۔۔۔۔۔۔ ((اشفع لنا إلی ربک، ألا تری إلی ما نحن فیہ؟ ألا تری إلی ما قد بلغنا)).
''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، الحدیث: ۳۲۷، ص۱۲۵.
6۔۔۔۔۔۔ ((فأقول: أنا لھا)). ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب کلام عزوجل تعالی یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷.
7۔۔۔۔۔۔ ((أنا صاحبکم)). ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۶۱۱۷، ج۶، ص۲۴۸.