Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
135 - 278
     پھر باوجود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے (1)، ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا...! حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ہو گا، اے آدم! دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کرینگے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر ہزار سے نو سو ننانوے، یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشہ میں ہیں، حالانکہ نشہ میں نہ ہوں گے، ولیکن اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے (2)، غرض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو۲ ہوں، ۱۰۰سو ہوں، ۱۰۰۰ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ الاماں الاماں...! اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا (3)، قریب آدھے کے گزر چکا ہے اور ابھی تک اھلِ محشر اسی حالت میں ہیں۔ اب آپس میں مشورہ کریں گے کہ کوئی اپنا سفارشی ڈھونڈنا چاہیے کہ ہم کو اِن مصیبتوں سے رہائی دلائے، ابھی تک تو یہی نہیں پتا چلتا ہے کہ آخر کدھر کو جانا ہے، یہ بات مشورے سے قرار پائے گی کہ حضرت آدم علیہ السلام ہم سب کے باپ ہیں، اﷲ تعالیٰ نے اِن کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جنت میں رہنے کو جگہ دی اور مرتبہ نبوت سے سرفراز فرمایا، اُنکی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، وہ ہم کو اِس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔ 

    غرض اُفتاں و خیزاں کس کس مشکل سے اُن کے پاس حاضر ہو ں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں، اﷲ عزوجل نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور اپنی چُنی ہوئی روح آپ میں ڈالی اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا اور جنت میں آپ کو رکھا، تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھائے، آپ کو صفی کیا، آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں...؟! آپ ھماری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہٖ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہٖ لِکُلِّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ). (پ ۳۰، عبس: ۳۴۔۳۷).

2۔۔۔۔۔۔ عن أبي سعید الخد ري رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یقول اللہ تعالی: یا آدم! فیقول: لبیک، وسعدیک، والخیر في یدیک، فیقول: أخرج بعث النار، قال: وما بعث النار؟ قال: من کل ألف تسعمائۃ وتسعۃ وتسعین، فعندہ یشیب الصغیر (وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِیدٌ) [الحج:۲])).

''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأ نبیائ، باب قصۃ یأجوج ومأجوج، الحدیث: ۳۳۴۸، ج۲، ص۴۱۹۔۴۲۰.

3۔۔۔۔۔۔ (فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ، خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ)، پ۲۹، المعارج: ۴. في ''الدرالمنثور''، ج۸، ص۲۷۹، تحت الآیۃ: أخرج ابن أبي حاتم والبیہقي في البعث عن ابن عباس رضي اللہ عنھما في قولہ: ((فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ، خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ) قال: لو قدرتموہ لکان خمسین ألف سنۃ من أیامکم، قال: یعني یوم القیامۃ).
Flag Counter