| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔(1) اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مُبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا، جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے (2)، جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب طیار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو(3) وعلی ھذا القیاس۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن عقبۃ بن عامر یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((تدنو الشمس من الأرض فیعرق الناس، فمن الناس من یبلغ عرقہ عقبیہ، ومنھم من یبلغ إلی نصف الساق، ومنھم من یبلغ إلی رکبتیہ، ومنھم من یبلغ العجز، ومنھم من یبلغ الخاصرۃ، ومنھم من یبلغ منکبیہ، ومنھم من یبلغ عنقہ، ومنھم من یبلغ وسط فیہ)) وأشار بیدہ فألجمھا فاہ: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشیر ھکذا، ((ومنھم من یغطیہ عرقہ)). وضرب بیدہ إشارۃ.
''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۴۴۴، ج۶، ص۱۴۶.
2۔۔۔۔۔۔ (وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیلِ اللہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ) پ۱۰، التوبۃ:۳۴۔۳۵.
3۔۔۔۔۔۔ عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ما من صاحب کنز لا یؤدي زکاتہ إلاّ أحمي علیہ في نار جہنم، فیجعل صفائح، فیکوی بہا جنباہ وجبینہ، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ، إمّا إلی الجنۃ وإمّا إلی النار، وما من صاحب إبل لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت تستن علیہ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار، وما من صاحب غنم لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت، فتطؤہ بأظلافہا وتنطحہ بقرونہا، لیس فیہا عقصاء ولا جلحائ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا، حتی یحکم اللہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ مما تعدون، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار)).
''صحیح مسلم'' ، کتاب الزکاۃ ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۳.