| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
''معلوم نہیں میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت'' (1)، اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے...؟! کہ اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اِس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے(2) ، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اُس وقت کہ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اُس کا منہ اِس طرف کو ہوگا، تپش اورگرمی کا کیا پوچھنا...؟! (3) اور اَب مِٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پرپاؤں نہیں رکھا جاتا، اُس وقت جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اُس کی تپش کون بیان کرسکے...؟! اﷲ (عزوجل) پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے (4) اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا (5)، پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ: ''زمین کا روٹی ہونا ، غبار والا ہونا، اور آگ بن جانا جو احادیث میں آیا ہے اس میں کوئی منافات نہیں، بلکہ ان کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ بعض زمین کے ٹکڑے روٹی، بعض غبار، اور بعض آگ ہوجائیں گے، اور آگ ہونے والا قول سمندر کی زمین کے ساتھ خاص ہے (کہ سمندر کی زمین آگ کی ہوجائے گی) ۔ (''البدور السافرۃ'' للسیوطي، الحدیث: ۷۴، ص۴۷).
''تفسیر مظہری'' میں ہے کہ: ''ہوسکتا ہے کہ مومنین کے قدموں کی جگہ روٹی ہوجائے گی اور کفار کے قدموں کی جگہ غبار والی اور آگ والی ہوجائے گی''۔ (''تفسیر مظہري''، تحت الآیۃ ۴۸، ج۵، ص۳۴۴، مترجم).
1۔۔۔۔۔۔ حدثني مقداد بن الأسود قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((تدنی الشمس۔ یوم القیامۃ۔ من الخلق، حتی تکون منہ کمقدار میل)). قال سلیم بن عامر: فواللہ! ما أدري ما یعني بالمیل؟ أمسافۃ الأرض، أم المیل الذي تکتحل بہ العین)). ''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ... إلخ، باب في صفۃ یوم القیامۃ...إلخ، الحدیث: ۲۸۶۴، ص۱۵۳۱۔۱۵۳۲.
2۔۔۔۔۔۔ في ''المرقاۃ''، ج۹، ص۶۵۹: (عن ابن عمر علی ما رواہ الدیلمي في ''مسند الفردوس'' مرفوعاً: ((الشمس والقمر وجوہھما إلی العرش وأقفاؤھما إلی الدنیا)) ففیہ تنبیہ نبیہ علی أنّ وجوہھما لو کانت إلی الدنیا لما أطاق حرّھما أحد من أھل الدنیا).
3۔۔۔۔۔۔ ''ملفوظات اعلٰی حضرت''، حصہ چہارم، ص۴۵۴۔۴۵۵.
4۔۔۔۔۔۔ عن أبي أمامۃ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((تدنو الشمس یوم القیامۃ علی قدر میل ویزاد في حرہا کذا وکذا یغلي منھا الہوام کما یغلي القدور، یعرقون فیہا علی قدر خطایاہم، منھم من یبلغ إلی کعبیہ ومنھم من یبلغ إلی ساقیہ ومنھم من یبلغ إلی وسطہ ومنھم من یلجمہ العرق)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۲۴۸، ج۸، ص۲۷۹.
5۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((یعرق الناس یوم القیامۃ حتی یذھب عرقھم في الأرض سبعین ذراعاً)). ''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، الحدیث: ۶۵۳۲، ج۴، ص۲۵۵.