| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
(۲۰) ذَلیل لوگ جن کو تَن کا کپڑا، پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں، بڑے بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔ (1)
(۲۱) دجّال کا ظاہر ہونا کہ چا۴۰لیس دن میں حرمَیْنِ طیّبین کے سوا تمام روئے زمین کا گشت کریگا۔ (2) چالیس دن میں، پھلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کریگا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ (3) اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا (4)، ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی، جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا، جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی، مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا، وہ آرام کی جگہ ہوگی (5) اور وہ خدائی کا دعویٰ کریگا (6)، جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کریگا اُسے جہنم میں داخل کریگا (7)، مُردے جِلائے (8) گا (9)۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ((وأن تری الحفاۃ، العراۃ، العالۃ، رعاء الشاء، یتطاولون في البنیان)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، الحدیث:۸،ص۲۱.
2۔۔۔۔۔۔ ((فلا أدع قریۃ إلاّ ھبطتھا في أربعین لیلۃ غیر مکۃ وطیبۃ، فھما محرمتان علي کلتاھما)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب قصۃ الجساسۃ، الحدیث: ۲۹۴۲، ص۱۵۷۶.
3۔۔۔۔۔۔ قلنا: یا رسول اللہ! وما لبثہ في الأرض؟ قال: ((أربعون یوماً، یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر أیامہ کأیامکم))، قلنا: یا رسول اللہ! فذلک الیوم الذي کسنۃ، أتکفینا فیہ صلاۃ یوم؟ قال: ((لا، اقدروا لہ قدرہ))، قلنا: یا رسول اللہ! وما إسراعہ في الأرض؟ قال:((کالغیث استدبرتہ الریح)).''صحیح مسلم''،کتاب الفتن، باب في ذکر الدجال...إلخ، الحدیث:۲۹۳۷،ص۱۵۶۹.
4۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہ لم تکن فتنۃ في الأرض منذ ذرأ اللہ ذریۃ آدم علیہ السلام أعظم من فتنۃ الدجال)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال...إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۴.
5۔۔۔۔۔۔ عن حذیفۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((معہ جنۃ ونار، فنارہ جنۃ وجنتہ نار)).
''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال...إلخ، الحدیث:۲۹۳۴، ص۱۵۶۷.
وفي روایۃ ''المسند'': ((ومعہ نہران أنا أعلم بھما منہ نہر یقول: الجنۃ ونہر یقول: النار، فمن أدخل الذي یسمیہ الجنۃ فہو النار ومن أدخل الذي یسمیہ النار فہو الجنۃ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۴۹۵۹، ج۵، ص۱۵۶۔۱۵۷.
6۔۔۔۔۔۔ ((فیقول للناس: أنا ربکم))''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۱۵۶، الحدیث:۱۴۹۵۹.
7۔۔۔۔۔۔ في ''فیض القدیر''، ج۳، ص۷۱۹: (معہ جنۃ ونار فنارہ جنۃ وجنتہ نار) أي: من أدخلہ الدجال نارہ بتکذبیہ إیاہ تکون تلک النار سببا لدخولہ الجنۃ في الآخرۃ ومن أدخلہ جنتہ بتصدیقہ إیاہ تکون تلک الجنۃ سببا لدخولہ النار فی الآخرۃ).
8۔۔۔۔۔۔ زندہ کرے۔
9۔۔۔۔۔۔ عن سمرۃ بن جندب أنّ نبي اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول: ((إنّ الدجال خارج وہو أعور عین الشمال علیہا ظفرۃ غلیظۃ، وإنّہ یبریء الأکمہ والأبرص ویحیی الموتی...إلخ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۷، ص۲۶۰، الحدیث: ۲۰۱۷۱.