| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
کہ محفوظ ہیں، ترکیب دے گا اور ہر رُوح کو اُسی جسمِ سابق میں بھیجے گا، اِس کا نام حشر ہے(1)، عذاب وتنعیمِ قبر کا اِنکار وہی کریگا، جو گمراہ ہے۔(2)
عقیدہ (۱۰): مردہ اگر قبر میں دفن نہ کیا جائے تو جہاں پڑا رہ گیا یا پھینک دیا گیا، غرض کہیں ہو اُس سے وہیں سوالات ہوں گے اور وہیں ثواب یا عذاب اُسے پہنچے گا، یہاں تک کہ جسے شیر کھا گیا تو شیر کے پیٹ میں سوال و ثواب و عذاب جو کچھ ہو پہنچے گا۔ (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((ویبلی کل شيء من الإنسان إلاّ عجب ذنبہ فیہ یرکب الخلق)).
''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، باب ونفخ في الصور...إلخ، الحدیث: ۴۸۱۴، ج۳، ص۳۱۶.
وفي ''فتح الباري''، کتاب التفسیر، ج۸، ص۴۷۵۔۴۷۶، تحت الحدیث: (قولہ: ''ویبلی کل شيء من الإنسان إلاّ عجب ذنبہ، فیہ یرکب الخلق''، في روایۃ مسلم: ((لیس من الإنسان شيء إلاّ یبلی إلاّ عظماً واحداً))، وعن أبي ہریرۃ بلفظ: ((کل ابن آدم یأکلہ التراب إلاّ عجب الذنب، منہ خلق ومنہ یرکب))، وعن أبي ہریرۃ قال: ((إنّ في الإنسان عظما لا تأکلہ الأرض أبداً، فیہ یرکب یوم القیامۃ))، قالوا: أيّ عظم ہو؟ قال: ((عجب الذنب))، وفيحدیث أبي سعید عند الحاکم وأبي یعلی: قیل: یا رسول اللہ ما عجب الذنب؟ قال: ((مثل حبۃ خردل))، والعجب بفتح المہملۃ وسکون الجیم بعدہا موحدۃ ویقال لہ: ((عجم)) بالمیم أیضا عوض البائ، وہو عظم لطیف في أصل الصلب، وہو رأس العصعص، وہو مکان رأس الذنب من ذوات الأربع. وفي حدیث أبي سعید الخدري عند ابن أبی الدنیا وأبي داود والحاکم مرفوعا: ((إنّہ مثل حبۃ الخردل)).
وفي ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر والبعث، ص۱۰۲۔۱۰۳: (والبعث وھو أن یبعث اللہ تعالٰی الموتی من القبور بأن یجمع أجزاء ھم الأصلیۃ ویعید الأرواح إلیھا حق لقولہ تعالی: (ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُوْنَ) وقولہ تعالی: (قُلْ یُحْیِِیْہَا الَّذِیْ اَنْشَاَہَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ) إلی غیر ذلک من النصوص القاطعۃ الناطقۃ بحشر الأجساد).
2۔۔۔۔۔۔ في ''الحدیقۃ الندیۃ''، ص۳۰۳: (من أنکر عذاب القبر فھو مبتدع). و''بریقۃ محمودیۃ''، ج۲، ص۵۶۔
3۔۔۔۔۔۔ وفي ''الحدیقۃ الندیۃ''، ج۱، ص۲۶۶۔۲۶۷: (وعذ اب القبر) قید القبر جری علی الغالب أو قبرکل إنسان بحسبہ، وقال العلماء: عذاب القبر ھو عذاب البرزخ أضیف إلی القبر؛ لأنّہ الغالب وإلاّ فکل میت أراد اللہ تعالی تعذیبہ نالہ ما أراد اللہ بہ قبر أو لم یقبر ولو صلب أو غرق في بحر أو أکلتہ الدواب أو حرق حتی صار رماداً، وذري في الریح۔۔۔۔۔۔ (وتنعیم أھل الطاعۃ) من المؤمنین (فیہ) أي: القبر یعني کائن ذلک فیہ (بما) أي: بالوصف الذي (یعلمہ اللہ تعالٰی ویریدہ) للعبد المؤمن کما قال صلی اللہ علیہ وسلم: ((القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النیران وکما تقدم في عذاب القبر یقال في نعیمہ سواء قبر العبد أو لم یقبر حتی لو صلب أو غرق في بحر أو أکلتہ الدواب أو حرق...إلخ).