Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
112 - 278
اور یوہیں تنعیمِ قبر حق ہے(1)، اور دونوں جسم وروح دونوں پر ہیں(2)، جیسا کہ اوپر گزرا۔ جسم اگرچہ گل جائے، جل جائے، خاک ہو جائے، مگر اُس کے اجزائے اصلیہ قیامت تک باقی رہیں گے، وہ مُوردِ عذاب وثواب ہوں گے(3) اور اُنھیں پر روزِ قیامت دوبارہ ترکیبِ جسم فرمائی جائے گی، وہ کچھ ایسے باریک اجزا ہیں ریڑھ کی ہڈی میں جس کو ''عَجبُ الذَّنب'' کہتے ہیں، کہ نہ کسی خوردبین سے نظر آسکتے ہیں، نہ آگ اُنھیں جلا سکتی ہے، نہ زمین اُنھیں گلا سکتی ہے، وہی تُخمِ جسم ہیں۔ ولہٰذا روزِ قیامت روحوں کا اِعادہ (4)اُسی جسم میں ہوگا، نہ جسمِ دیگر میں،بالائی زائد اجزا کا گھٹنا، بڑھنا، جسم کو نہیں بدلتا، جیسا: بچہ کتنا چھوٹا پیدا ہوتا ہے، پھر کتنا بڑا ہو جاتاہے، قوی ہیکل جوان بیماری میں گھل کر کتنا حقیر رہ جاتا ہے، پھر نیا گوشت پوست آکر مثلِ سابق ہوجاتا ہے، اِن تبدیلیوں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ شخص بدل گیا۔ یوہیں روزِ قیامت کا عَود ہے(5)، وہی گوشت اور ہڈیاں کہ خاک یا راکھ ہوگئے ہوں، اُن کے ذرّے کہیں بھی منتشر ہو گئے ہوں، رب عزوجل انھیں جمع فرما کر اُس پھلی ہیئت پر لا کر اُنھیں پہلے اجزائے اصلیہ پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''شرح العقائد النسفیۃ''، مبحث عذاب القبر، ص۹۹: (عذاب القبر للکافرین ولبعض عصاۃ المؤمنین، خص البعض؛ لأنّ منھم من لا یرید اللہ تعالٰی تعذیبہ فلا یعذب، وتنعیم أھل الطاعۃ في القبر بما یعلمہ اللہ تعالی ویریدہ، ثابت)، ملتقطاً. 

    وفي ''فقہ الأکبر''، ص۱۰۱: (ضغطۃ القبر حق، وعذابہ حق کائن للکفار کلہم ولبعض المسلمین).

    وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۱۰۱: (وعذابہ) أي: إیلامہ (حق کائن للکفار کلہم) أجمعین (ولبعض المسلمین) أي: عصاۃ المسلمین کما في نسخۃ، وکذا تنعیم بعض المؤمنین حق، فقد ورد : ((إن القبر روضۃ من ریاض الجنۃ أو حفرۃ من حفر النیران)) رواہ الترمذي والطبراني رحمھما اللہ).

2۔۔۔۔۔۔ (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ) پ۲۴، المؤمن: ۴۶.

    في ''تفسیر روح البیان''، ج۸، ص۱۹۱، تحت الآیۃ: (محل العذاب والنعیم أي: في القبر ہو الروح والبدن جمیعاً باتفاق أھل السنۃ).

    في ''شرح الصدور''، ص۱۸۱: (قال العلماء: عذاب القبر محلہ الروح والبدن جمیعاً باتفاق أھل السنۃ وکذا القول في النعیم)، ملتقطاً. وفي ''المعتمد المستند''، ص۱۸۲: (أنّ التنعیم والعذاب کلاھما للروح والبدن جمیعاً).

    و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۹، ص۶۵۸. و۸۵۱. 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی عذاب و ثواب اِنہیں پر وارد ہوگا۔         

4۔۔۔۔۔۔ یعنی لوٹ کر آنا ۔

5۔۔۔۔۔۔ یعنی لوٹ کر آناہے۔
Flag Counter