| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
روایتوں میں آیا ہے، کہ سوال کا جواب پا کر کہیں گے کہ ہمیں تو معلوم تھا کہ تُو یہی کہے گا(1)، اُس وقت آسمان سے ایک منادی ندا کریگا کہ میرے بندہ نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ، اور جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ جنت کی نسیم اور خوشبو اُس کے پاس آتی رہے گی اور جہاں تک نگاہ پھیلے گی، وہاں تک اُس کی قبر کشادہ کردی جائے گی(2) اور اُس سے کہا جائے گا کہ تو سو جیسے دُولہا سوتا ہے۔(3) یہ خواص کے لیے عموماً ہے اور عوام میں اُن کے لیے جن کو وہ چاہے، ورنہ وسعتِ قبر حسبِ مراتب مختلف ہے(4) ، بعض کیلئے ستّر ستّر ہاتھ لمبی چوڑی(5)، بعض کے لیے جتنی وہ چاہے زیادہ(6)، حتیٰ کہ جہاں تک نگاہ پہنچے(7) ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ وفي روایۃ: ((فیقولان: ماکنت تقول في ھذا الرجل؟ فیقول ما کان یقول: ھو عبد اللہ ورسولہ، أشھد أنّ لا إلہ إلا اللہ وأنّ محمداً عبدہ ورسولہ، فیقولان: قد کنا نعلم أنّک تقول ھذا)).
''سنن الترمذي'' کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذ اب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷.
2۔۔۔۔۔۔ ((فینادي مناد في السمائ: أن صدق عبدي فأفرشوہ من الجنۃ وألبسوہ من الجنۃ وافتحوا لہ بابا إلی الجنۃ، قال: فیاتیہ من روحھا وطیبھا، ویفسح لہ في قبرہ مدّ بصرہ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۸۵۵۹، ج۶، ص۴۱۳۔۴۱۴.
3۔۔۔۔۔۔ ((فیقولان: نم کنومۃ العروس)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۸.
وفي ''النبراس''، ص۲۰۸: (''فیقولان لہ: نم کنومۃ العروس'' بفتح العین جدید العہد بالنکاح ویطلق علی الزوج والزوجۃ).
4۔۔۔۔۔۔ ((فیوسع لہ في قبرہ، ویفرج لہ فیہ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۵۔
و''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۹۱۴۵، ج۹، ص۲۳۳.
5۔۔۔۔۔۔ قال قتادۃ: ((وذکر لنا أنّہ یفسح لہ في قبرہ سبعون ذراعاً)).
''صحیح مسلم''، کتاب الجنۃ...إلخ، باب عرض مقعد المیت... إلخ، الحدیث: ۲۸۷۰، ص۱۵۳۵.
وفي روایۃ: ((ثم یفسح لہ في قبرہ سبعون ذراعا في سبعین)).
''سنن الترمذي''، کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، الحدیث: ۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷۔۳۳۸ .
وفي ''النبراس''، ص۲۰۸: (''سبعون ذراعاً في سبعین'' أي: طولاً وعرضاً).
6۔۔۔۔۔۔ ((فیفسح لہ في قبرہ ما شائ، فیری مکانہ من الجنۃ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۶، و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۱۹۸، ج۱، ص۲۲۸.
7۔۔۔۔۔۔ ((فیوسع لہ في قبرہ مد بصرہ)). ''شرح الصدور''، ص۱۲۶۔
و''إثبات عذاب القبر'' للبیہقي، الحدیث: ۳۲، ج۱، ص۳۹.