''جب مسلما ن مرتا ہے اُس کی راہ کھول دی جاتی ہے، جہاں چاہے جائے۔''
شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں(2): ''روح را قُرب و بُعد مکانی یکساں است۔'' (3)
کافروں کی خبیث روحیں بعض کی اُن کے مرگھٹ(4)، یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہِ برہُوت میں کہ یمن میں ایک نالہ ہے(5)، بعض کی پھلی، دوسری، ساتویں زمین تک(6)، بعض کی اُس کے بھی نیچے سجّین(7) میں(8)، اور وہ کہیں بھی ہو، جو اُس کی قبر یا مرگھٹ پر گزرے اُسے دیکھتے، پہچانتے، بات سُنتے ہیں، مگر کہیں جانے آنے کا اختیار نہیں، کہ قید ہیں۔
عقیدہ( ۴): یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔(9)1۔۔۔۔۔۔ ''شرح الصدور''، باب فضل الموت، ص۱۳.
و''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الزھد، کلام عبد اللہ بن عمرو، الحدیث : ۱۰، ج۸، ص۱۸۹.
2۔۔۔۔۔۔ ''فتاوی رضویہ ''، ج ۲۹ ، ص۵۴۵، بحوالہ ئ ''فتاوی عزیزیہ ''۔
3۔۔۔۔۔۔ یعنی روح کے لیے کوئی جگہ دور یا نزدیک نہیں ،بلکہ سب جگہ برابر ہے۔
4۔۔۔۔۔۔ ہندؤں کے مردے جلانے کی جگہ۔
5۔۔۔۔۔۔ عن عبد اللہ ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: ((إنّ أرواح الکفار تجمع ببرہوت سبخۃ بحضرموت، وأرواح المؤمنین بالجابیۃ، برہوت بالیمن، والجابیۃ بالشام).
وفي روایۃ: عن علي بن أبي طالب رضي اللہ عنہ قال: ((خیر وادي الناس وادي مکۃ وشر وادي الناس وادي الأحقاف واد بحضرموت یقال لہ: برہوت فیہ أرواح الکفار)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۶۔۲۳۷.
6۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمرو قال: ((أرواح الکافرین في الأرض السابعۃ)). ''شرح الصدور''، ص۲۳۴.
7۔۔۔۔۔۔ جہنم کی ایک وادی کا نام۔
8۔۔۔۔۔۔ عن ضمرۃ بن حبیب مرسلا قال: سئل النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن أرواح الکفار؟ قال: ((محبوسۃ في سجین)).
''شرح الصدور''، ص۲۳۲.
9۔۔۔۔۔۔ وفي ''النبراس''، باب البعث حق، ص۲۱۳: (التناسخ ھو انتقال الروح من جسم إلی جسم آخر وقد اتفق الفلاسفۃ وأھل السنۃ علی بطلانہ، وقال بحقیقتہ قوم من الضلال، فزعم بعضھم أنّ کل روح ینتقل في مائۃ ألف وأربعۃ وثمانین =