Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-89 - 278
امیرِ اھلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا ایک مکتوب
    شیخِ طریقت امیرِ اھلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:''میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس! آج کل صِر ف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ھماری اکثریت کا رُجحان ہے ۔ علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے :
 طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ .
 یعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت) پرفرض ہے
( سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۱۴۶ حدیث ۲۲۴)
 اِس حدیثِ پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَھلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے جو کچھ فرمایا،اس کا آسان لفظوں میں مختصراً خُلاصہ عرض کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ سُنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کافِر یا گُمراہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد مسائلِ نَماز یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات ( یعنی نماز توڑنے والی چیزیں) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی ( یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے توزکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار (وزمیندار) کھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَ عَلٰی ھٰذَاالْقِیاس( یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہرمسلمان عاقِل و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب( باطنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ ( باطنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر ، رِیاکاری، حَسَد وغیرہااور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔
(ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ،ج۲۳، ص ۶۲۳،۶۲۴)
حصولِ علم کے ذرائع
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین کے حصول کے لئے متعدد ذرائع ہیں مثلاً(۱)کسی دارالعلوم یا جامعہ کے شعبہ درس ِ نظامی میں داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر علم دین حاصل کرنا ،(۲)علمائے کرام کی صحبت اختیار کرنا،(۳)دینی کتب کا مطالعہ کرنا،(۴) علمائے کرام مثلاً امیرِ اھلِ سنت مدظلہ العالی کے بیانات اور مدنی مذاکروں کی کیسٹیں سننا،(۵) راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کا مسافر بنناوغیرہا ۔ ہم ان میں سے جتنے زیادہ ذرائع اپنائیں گے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی قدر ھمارے علم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔
Flag Counter