Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-90 - 278
پہلے اسے پڑھ لیجئے
 قراٰن مجید میں ہے ؛
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا(پ۱،البقرۃ:۳۱)
        ترجمہ کنزالایمان :اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھائے ۔
    حضرتِ سیدناامام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ ُاللہ ِ الھادِی اپنی مایہ ناز تفسیر ''تفسیر کبیر ''میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : سرکارِ دوعالم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر زندگی) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عصر کا تھا ۔ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم نے جب یہ بات اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہوکر التجاء کی : ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔'' تو آپ نے فرمایا :''علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجاؤ ۔'' چنانچہ وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم اسی کا حکم ارشاد فرماتے ۔(تفسیر کبیر ، ج۱،ص۴۱۰)

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !علم کی روشنی سے جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نجات ملتی ہے ۔جو خوش نصیب مسلمان علمِ دین سیکھتا ہے اس پر رحمتِ خداوندی کی چھماچھم برسات ہوتی ہے ۔ جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلاتا ہے اور طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لیے فرشتے ا پنے پروں کو بچھا دیتے ہیں اور ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر، اور علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث و جانشین ہیں۔
علم سیکھنا فرض ہے
    حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں:
'' طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
 یعنی علم کا حاصل کرناہر مسلمان مرد (وعورت) پر فرض ہے۔''
(شعب الإیمان،باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۶۶۵، ج۲، ص۲۵۴)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسلمان مرد عورت پر علم سیکھنا فرض ہے، (یہاں)علم سے بَقَدَرِ ضرورت شرعی مسائل مُراد ہیں لہٰذا روزے نماز کے مسائلِ ضرور یہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجِر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں لیکن دین کا پورا عالم بننا فرضِ کفایہ کہ اگر شہر میں ایک نے ادا کر دیا تو سب بری ہو گئے۔
( ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۲۰۲)
Flag Counter