Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-86 - 278
                                امیرِ اھلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی شفقت
     مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)کی درخواست پرامیرِ اھلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے گوناگوں مصروفیات کے باوجود مَدَنی مٹھاس سے تربتر اندازِ تحریر میں 21صفحات پر مشتمل ''تذکرہ صدرالشریعہ''لکھ کر عطا فرمایا جسے بہارِ شریعت کی پھلی جلد میں شامل کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ امیرِ اھلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو جزائے خیر عطافرمائے ۔
ابتدائی 6حصوں کی اہمیت
    بہارِ شریعت کے ابتدائی چھ حصوں کے متعلق صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :''اس میں روز مرہ کے عام مسائل ہیں۔ان چھ حصوں کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے تاکہ عقائد ،طہارت ،نماز ،زکوۃاور حج کے فقہی مسائل عام فہم سلیس اردو زبان میں پڑھ کر جاءز وناجاءز کی تفصیل معلوم کی جائے۔''
بہارِ شریعت پر کام کا طریقہ کار
بہارِ شریعت پر دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی ادارے المدینۃ العلمیۃ نے جس انداز سے کام کیااس کی تفصیل مُلاحظہ کیجئے؛ 

کام کرنے والوں کا اِنْتِخَاب:     اس کام لئے ابتدائی طور پر جامعۃ المدینہ (دعوتِ اسلامی ) کے فارغ التحصیل 3 ذہین مَدَنی علماء دامت فیوضھم کو منتخب کیا گیاجن کی تعداد بعد میں 12تک بھی پہنچی ،ان میں وہ علماء بھی شامل ہیں جنہوں نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کے عربی حاشئے جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار پر بھی کام کیا ہے ۔ اِن سب کا ذمہ دار اُن مَدَنی عالم دین دام ظلہ المبین کو بنایا گیا جو حوالہ جات کی تخریج ،مقابلہ ، پروف ریڈنگ وغیرہ میں قابلِ قدر مہارت وتجربہ رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد مشاورت کا پورا نظام ترتیب دیا گیا(یہ بھی دعوتِ اسلامی کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے) جس میں کام کے اسلوب،اس میں پیش آنے والی رکاوٹوں کے حل، کتب کی دستیابی اورحواشی وغیرہ کے حوالے سے مشورے ہوتے ہیں ۔ اِس مشاورت کے نگران (جودعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے رُکن بھی ہیں)کی کاوشیں بھی لائقِ تحسین ہیں ،جنہوں نے بھرپور دلچسپی لے کر بہارِ شریعت کے اس کام کو بہترسے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش فرمائی ۔بہارِ شریعت پر اس طرز سے کام کرنے میں جہاں مَدَنی علماء دامت برکاتہم العالیہ کی توانائیاں خرچ ہوئیں وہیں کُتُب ، کمپیوٹرزاور تنخواہوں کی مدّ میں دعوتِ اسلامی کا زرِّکثیر بھی خرچ ہوا ۔

کتابت: سب سے پہلے بہارِ شریعت کی مکمل کتابت(کمپوزنگ) کروائی گئی ۔ مصنف علیہ رحمۃ اللہ القوی کے رسم الخط کو حتی
Flag Counter