الامکان برقرار رکھنے کوشش کی گئی ہے، صفحہ نمبر ۴۱،۴۲ پر بہار شریعت میں آنے والے مختلف الفاظ کے قدیم وجدید رسم الخط کو آمنے سامنے لکھ دیا گیا ہے ۔جہاں پرنبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے ساتھ ''صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم'' اور اﷲ عزوجل کے نام کے ساتھ ''عزوجل'' لکھا ہو انہیں تھا وہاں بریکٹ میں اس انداز میں(عزوجل)، (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) لکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر حدیث و مسئلہ نئی سطر سے شروع کرنے کا التزام کیا گیاہے اور عوام وخواص کی سہولت کے لئے ہر مسئلے پر نمبر لگانے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ آیاتِ قرآنیہ کو منقش بریکٹ ( )، کتابوں کے نام اور دیگر اہم عبارات کو Inverted Commas '' '' سے واضح کیا گیاہے۔
مقابلہ: مقابلے کے لئے ان مکاتب کے 9نسخے حاصل کئے گئے(مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی ،ضیاء القراٰن مرکزالاولیاء لاہور، شمع بک ایجنسی مرکزالاولیاء لاہور،مکتبہ اعلیٰ حضرت مرکزالاولیاء لاہور،مکتبہ اسلامیہ مرکزالاولیاء لاہور،جہیز ایڈیشن مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی ،غلام علی اینڈ سنز مرکزالاولیاء لاہور، المجمع المصباحی مبارکپور ہند،شبیر برادرز مرکزالاولیاء لاہور) جن میں سے بعض کے حصول کے لئے پاکستان اور ہندوستان کے متعدد علماء اور اداروں سے بذریعہ ای میل وفون باربار رابطہ کیا گیا ۔ پھر ان تمام نُسخوں کا باریک بینی سے جاءزہ لینے کے بعد مکتبہ رضویہ آرام باغ، باب المدینہ کراچی کے مطبوعہ نسخہ کو معیار بنا کر مَدَنی علماء سے مقابلہ کروایا گیا،جو در حقیقت ہندوستان سے طبع شدہ قدیم نسخہ کا عکس ہے لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ دیگر شائع کردہ نسخوں سے بھی مدد لی گئی ہے۔
تخریج: بہارِ شریعت کے پہلے حصے میں حوالہ جات درج نہیں،جبکہ دوسرے حصے میں صرف احادیث اور بقیہ حصوں میں احادیث وفقہی مسائل کے مصادر درج تھے مگر وہ صرف کتابوں کے نام کی حد تک تھے ،جلد وصفحہ نمبر وغیرہ درج نہ تھا۔جس کی وجہ سے بہار شریعت میں درج احادیث وفقہی مسائل کے اصل ماٰخذ تک پہنچنے کے لئے علماء کرام و مفتیان عِظام دامت فیوضھم کاکافی وقت صرف ہوجاتا تھا ۔ چنانچہ آیاتِ قراٰنی ، احادیثِ مبارکہ اور فقہی مسائل کے مکمل حوالہ جات 'کتاب ،جلد،باب ،فصل اور صفحہ نمبر کی قید کے ساتھ تلاش کئے گئے اور انہیں حاشیے میں درج کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب درسِ نظامی کے ابتدائی درجات کا طالب علم بھی ان مسائل کو عربی کتب میں بآسانی تلاش کرسکتا ہے ۔حوالہ جات کے لئے فردِ واحد پر تکیہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی صحت یقینی بنانے کے لئے یہ طریقہ کار اپنایا گیا کہ ایک مَدَنی اسلامی بھائی نے تخریج کی تو دوسرے مَدَنی اسلامی بھائی سے اس کے لکھے ہوئے حوالہ جات کی تفتیش کروائی گئی ،پھر کمپوزنگ کے بعد ان حوالہ جات کو بہار شریعت کے حاشئے میں لکھنے کے بعد بھی مقابلہ کروایا گیا ،اگرچہ اس طریقہ کار کی وجہ سے کافی وقت صرف ہوا لیکن غلطی کا امکان کم سے کم رہ گیا۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ !2سال کے قلیل عرصے میں بہار شریعت کے 20حصوں کی تخریج مکمل کر لی گئی ہے ۔چونکہ کتابوں کے نام باربار استعمال ہوتے تھے لہٰذا