Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-83 - 278
    المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اﷲ القوی ''فتاویٰ فیض الرسول''، جلد 1، صفحہ 351 پر فرماتے ہیں: کہ ''تلاوت کے شروع میں اعوذ باﷲ پڑھنا مستحب ہے واجب نہیں۔ اور بے شک بہارِ شریعت میں واجب چھپا ہے جس پرغنیہ کا حوالہ ہے، حالانکہ غنیہ مطبوعہ رحیمیہ ص۴۶۳ میں ہے
 التعوذ یستحب مرۃ واحدۃ ما لم یفصل بعمل دنیوی.
 (یعنی ایک مرتبہ تعوذ پڑھنا مستحب ہے جب تک اس تلاوت میں کوئی دنیاوی کام حائل نہ ہو۔) تو معلوم ہوا کہ بہارِ شریعت میں بہت سے مسائل جو ناشرین کی غفلتوں کی وجہ سے غلط چھپ گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔'' اسی وجہ سے ہم نے ''مستحب '' کر دیا ہے ۔

    (2)بہارشریعت حصہ4صفحہ728پر ہے ؛سجدہ واجب ہونے کے لیے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔(ردالمحتار)     

    المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛اعلیٰ حضرت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: سجدہ واجِب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضَروری ہے لیکن بعض عُلَمائے مُتَأَخِّرِین کے نزدیک وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادّہ پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھاتوسجدہ تلاو ت واجِب ہوجاتاہے لھذا اِحتیاط یِہی ہے کہ دونوں صورَتوں میں سجدہ تلاوت کیا جائے۔ ( فتاویٰ رضویہ،ج۸،ص،۲۲۳۔۲۳۳مُلَخَّصاً ) 

     (3)بہارشریعت حصہ6صفحہ 1175پرہے ؛طوافِ فرض کُل یا اکثر یعنی چار پھیرے جنابت یا حیض و نفاس میں کیا تو بدنہ ہے اور بے وضو کیا تو دَم اور پھلی صورت میں طہارت کے ساتھ اعادہ واجب، اگر مکہ سے چلا گیا ہو تو واپس آکر اعادہ کرے اگرچہ میقات سے بھی آگے بڑھ گیا ہو مگر بارھویں تاریخ تک اگر کامل طور پر اعادہ کرلیا تو جرمانہ ساقط اور بارھویں کے بعد کیا تو دَم لازم، بدنہ ساقط۔ لہٰذا اگر طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیا ہے تودم ساقط نہ ہوگا کہ بارھویں تو گزر گئی اور اگر طوافِ فرض بے وضو کیا تھا تو اعادہ مستحب پھر اعادہ سے دَم ساقط ہوگیا اگرچہ بارھویں کے بعد کیا ہو۔ (جوہرہ، عالمگیری)

    المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛ بہار شریعت کے نسخوں میں اس جگہ''دم''کے بجائے'' بَدَ نہ'' لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی ہے کیونکہ ''طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیاتو بدنہ ساقط ہو جائے گا''،ایسا ہی فتاوی عالمگیری میں ہے،اسی وجہ سے ہم نے لفظ''دم'' کر دیا ہے ۔ لہٰذا جن کے پاس بہار شریعت کے دیگر نسخے ہیں ان کو چاہیے کہ لفظ ''بدنہ'' کو قلم زد کر کے اس جگہ پر لفظ'' دم'' لکھ لیں۔

    (4)بہارشریعت حصہ3صفحہ615پرہے ؛ سُترہ بقدر ایک ہاتھ کے اونچا اور انگلی برابر موٹا ہو اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ اونچا ہو۔ (درمختار ردالمحتار)    

    المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛ یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ردالمحتار میں ہے: سنت یہ ہے کہ نمازی او ر سترہ کے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ ہو۔
Flag Counter