بہارِ شریعت کا پھلا حصہ جو کہ عقائد کے بیان پر مشتمل ہے اور الحمدللہ عزوجل اھلسنّت کے عقائد قراٰن وحدیث سے ثابت ہیں اس لئے پہلے حصے پر جو حواشی دئیے گئے ان کا انداز کچھ یوں ہے؛
a۔۔۔۔۔۔کسی بھی عقیدہ یا مسئلہ پر دلائل ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے آیت قرآنی کو بطور دلیل پیش کیا گیا ۔
b۔۔۔۔۔۔اس کے بعد حدیث کی مستند کتب صحاح ستہ میں سے کسی کتاب سے کوئی حدیث ذکر کی گئی ہے اور ان میں نہ ملنے کی صورت میں اور دوسری کُتُبِ حدیث کی طرف رُجوع کیا گیا ۔
c۔۔۔۔۔۔پھر اس حدیث پاک پر محدثین کرام کی بیان کردہ شروحات میں سے کوئی شرح جو عقیدہ کے موافق ہو بیان کی جاتی ہے ۔
d۔۔۔۔۔۔اس کے بعدعقائد کی مستند کتب'' فقہ اکبر'' ،'' شرح فقہ اکبر''،'' مواقف ''،'' شرح مواقف''،'' شرح مقاصد''،'' شرح عقائدنسفیہ'' اور المعتقدالمنتقدو غیرہا سے موافقِ عقیدہ نص بیان کی جاتی ہے ۔
e۔۔۔۔۔۔اسی طرح جہاں کہیں ضمناً سیرت و تاریخ کے حوالے سے کوئی بات ذکر کی گئی ہو تو وہاں کتب سیرت و تاریخ سے مسئلہ بیان کیا گیا ہے ۔
f۔۔۔۔۔۔اسی طرح فقہی مسائل کے بیان میں کتب فقہیہ سے مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے جس میں شروحات اور فتاوی بھی شامل ہیں ۔
g۔۔۔۔۔۔اور پھر آخر میں عقائد و مسائل کے بیان میں مزید وضاحت کے لیے ''فتاوی رضویہ'' شریف سے تخاریج اور اقتباسات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے ۔
کتابوں کے اصل صفحات کے عکس : ''ایمان و کفر'' کی بحث کے دوران صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے بدمذہبوں کے عقائد مذمومہ انہیں کی کتابوں سے بیان کیے ہیں تاکہ سنی مسلمان بھائی اپنے عقائد کا تحفظ کرسکیں لیکن وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ بدمذہبوں نے نئی چال چلنا شروع کردی کہ جو بُرے اور باطل عقائد ان کے اکابرین نے بیان کیے تھے قطع وبُرید کے ساتھ بلکہ بعض تو ہوشیاری اور چالاکی سے ان بُری اور قبیح باتوں کو مَحو و حذف کرکے نئے انداز میں چھاپنے لگے جس کا مقصد بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینا تھا، الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ مختلفعلماء کرام دامت فیوضھم نے بیان و تقریر ، کتب و رسائل الغرض جس طرح ممکن ہوا، بد مذہبوں کی سازشوں سے سنی مسلمانوں کو خبردار رکھا ۔ ہم نے بدمذہبوں کی اصل عبارتیں کمپیوٹر کے ذریعے اسکین (scan) کرکے لگادی ہیں تاکہ مسلمان اِن بدمذہبوں کے دامِ فریب میں نہ آسکیں۔