| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جب بہار شریعت کے 7حصے (پہلے 6اور 16واں ) الگ الگ شائع ہوکر یکے بعد دیگرے علمائے کرام ومفتیانِ عِظام دامت فیوضھم تک پہنچے تو انہوں نے ھمارے کام کو بہت سراہا ، اپنے تأثرات کا بذریعہ مکتوب بھی اظہار کیا اور مفید مشوروں سے بھی نوازا۔ علمائے کرام ومفتیانِ عِظام دام ظلھم کی جانب سے ذمّہ دارانِ دعوتِ اسلامی کو بھیجے جانے والے مکتوبات سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں؛
شیخ الحدیث مفتی محمد ابراہیم قادری مدظلہ العالی (جامعہ رضویہ سکھر )
فقہ اسلامی کا انسائیکلو پیڈیا بہارشریعت جو حضرت صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کا گرانقدر علمی کارنامہ اور انکی زندہ کرامت ہے ،ماشاء اللہ ''المدینۃ العلمیۃ'' کی جانب سے اس پر تخریجی وتحقیقی کام بہت جلد منظر عام پر آرہا ہے ۔اس فقیر نے بہارشریعت جلد شانزدہم (16 )پر حاشیہ نگاری کام کو بہ نظر غائر دیکھا،بحمدہ تعالٰی اسے انتہائی مفید ،جامع ،نافع پایا۔بہار شریعت میں اگر کہیں بعض مسائل پر اجمالاً گفتگو ہوئی تو حاشیہ میں اسے مفصلاً بیان کردیا گیا ہے ۔یونہی حاشیہ میں کتاب بعض مسامحات کی نشاندہی کی گئی ہے پھر اصل مسائل کو واضح کرکے فتاوی رضویہ کی تائیدی عبارات کے ذریعہ حاشیہ کو مزین کیا گیاہے ۔میں المدینۃ العلمیۃ کے اصحاب علم و رفقاء کار کو اس شاندار کام پر ھدیہ تبریک پیش کرتا ہوں ۔
حضرت مولانامفتی گل احمد عتیقی مدظلہ العالی
( شیخ الحدیث جامعہ رسولیہ شیرازیہ رضویہ امیر روڈ بلال گنج عقب دربار حضرت داتا لاہور) السلام علیکم خیر وعافیت مزاج عالی !آپ نے بہار شریعت اور جدالممتار پر جو تحقیقی کار نامہ سر انجام دیا ہے میں سوچتا ہوں کہ یہ خواب ہے یا خواب کی تعبیر ہے، خوشی اور مسرت سے بار بار آپ کے ارسال کردہ گرامی نا مہ کو پڑھتا ہوں اور پھر گاہے بہار شریعت کے کسی حصے کو اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتا ہوں اور گاہے جد الممتار کا کسی نہ کسی جگہ سے مطالعہ شروع کر دیتا ہوں۔ دعوت اسلامی کی فعال قیادت اور ان کے رفقاء نے در پیش حالات کے نبض پر ہاتھ رکھ کر حالات کے مطابق جن جن چیزوں کی ضرورت تھی ان پر منظم اور ٹھوس طریقے سے کام شروع کر دیا ہے۔ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے آپ کو آپکے رفقاء کو اور آپ کی قیادت اور آپ کے محرکین کو خراج تحسین پیش کر سکوں۔ حضرت قبلہ مفتی اعظم پاکستان مفتی عبد القیوم ہزاروی رحمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم کار نامے تخریج فتاوٰی رضویہ کے بعد بہار شریعت کی