مسئلہ لکھا تھا،چُونکہ مسائل سُن کربَہُت سُکون ملتا تھا اِس لئے میرے منہ میں پانی آ رہا تھا کہ کاش! یہ کتاب مجھے حاصِل ہو جاتی ! لیکن نہ میں نے مذہبی کتابوں کی کوئی دکان دیکھی تھی نہ ہی یہ شُعُور تھا کہ یہ کتاب خریدی بھی جا سکتی ہے، خیر اگر مَول ملتی بھی تو میں کہاں سے خریدتا! اتنے پیسے کس کے پاس ہوتے تھے! بَہَرحال بہارِشریعت مجھے یاد رَہ گئی اور آخِر کار وہ دن بھی آہی گیا کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے میں بہارِشریعت خریدنے کے قابل ہو گیا۔ اُن دنوں مکمَّل بہارِشریعت (دو جلدوں میں) کا ہدِیَّہ پاکستانی 32روپیہ تھا جبکہ بِغیرجِلد کی 28 روپیہ۔ چُنانچِہ میں نے مکمَّل بہارِشریعت (غیرمُجلّد) 28 روپے میں خریدنے کی سعادت حاصِل کی۔ اُس وقت بہارِ شریعت کے 17حصے تھے البتَّہ اب 20ہیں۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے بہارِ شریعت سے وہ فُیوض و بَرَکات حاصِل کئے کہ بیان سے باہَر ہیں۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس کتاب کی برکات سے معلومات کا وہ اَنمول خزانہ ہاتھ آیا کہ میں آج تک اس کے گُن گاتا ہوں۔اس عظیمُ الشّان تصنیف کے مُصَنِّف خلیفہ اعلیٰ حضرت،صدرُ الشریعہ ،بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ہیں۔حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فرمان: