Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-78 - 278
 مسئلہ لکھا تھا،چُونکہ مسائل سُن کربَہُت سُکون ملتا تھا اِس لئے میرے منہ میں پانی آ رہا تھا کہ کاش! یہ کتاب مجھے حاصِل ہو جاتی ! لیکن نہ میں نے مذہبی کتابوں کی کوئی دکان دیکھی تھی نہ ہی یہ شُعُور تھا کہ یہ کتاب خریدی بھی جا سکتی ہے، خیر اگر مَول ملتی بھی تو میں کہاں سے خریدتا! اتنے پیسے کس کے پاس ہوتے تھے! بَہَرحال بہارِشریعت مجھے یاد رَہ گئی اور آخِر کار وہ دن بھی آہی گیا کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے میں بہارِشریعت خریدنے کے قابل ہو گیا۔ اُن دنوں مکمَّل بہارِشریعت (دو جلدوں میں) کا ہدِیَّہ پاکستانی 32روپیہ تھا جبکہ بِغیرجِلد کی 28 روپیہ۔ چُنانچِہ میں نے مکمَّل بہارِشریعت (غیرمُجلّد) 28 روپے میں خریدنے کی سعادت حاصِل کی۔ اُس وقت بہارِ شریعت کے 17حصے تھے البتَّہ اب 20ہیں۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے بہارِ شریعت سے وہ فُیوض و بَرَکات حاصِل کئے کہ بیان سے باہَر ہیں۔

     اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس کتاب کی برکات سے معلومات کا وہ اَنمول خزانہ ہاتھ آیا کہ میں آج تک اس کے گُن گاتا ہوں۔اس عظیمُ الشّان تصنیف کے مُصَنِّف خلیفہ اعلیٰ حضرت،صدرُ الشریعہ ،بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ہیں۔حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فرمان:
''عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحمَۃُ
یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔
'' (حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء،ج ۷ ص ۳۳۵رقم ۱۰۷۵۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
پرعمل کرتے ہوئے اپنے مُحسِن حضرت مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا تذکرہ پیش کرتا ہوں ۔
دم سے ترے''بہارِ شریعت '' ہے چار سو

باطل تِرے فتاوٰی سے لرزاں ہے آج بھی
ابتدائی حالات
    صدرِشریعت،بدرِ طریقت ، محسنِ اھلسنّت، خلیفہ اعلیٰ حضرت، مصنفِ بہارِ شریعت حضرتِ علامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی سنّی حنفی قادِری برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القوی ۱۳۰۰ھ مطابق1882ء میں مشرقی یوپی (ہند)کے قصبے مدینۃُ العُلَماء گھوسی میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین اور دادا حُضُور خدابخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فنِ طِب کے ماہِر تھے۔اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں مدرَسہ ناصر العلوم میں جا کر گوپا ل گنج کے مولوی الہٰی بخش صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ تعلیم حاصل کی ۔پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور اُستاذ مولانا محمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ اسباق پڑھے
Flag Counter