Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-77 - 278
پھرجامع معقولات ومنقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان علیہ رحمۃ الرحمن سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کئے اور یہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔ پھر دورہ  حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں اُستاذُ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کی۔حضرت محدثِ سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عَبقَری(یعنی اعلی ) صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :''مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔''
پیدل سفر
    صدر الشریعہ بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے طلبِ علمِ دین کیلئے جب مدینۃُ العُلَماء گھوسی سے جونپور کا سفر اختیار کیا ،ان دنوں سفر پیدل یا بیل گاڑیوں پر ہوتا تھا ۔چُنانچِہ راہِ علم کے عظیم مسافر صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی مدینۃ العلماء گھوسی سے پیدل سفر کرکے اعظم گڑھ آئے پھر یہاں سے اونٹ گاڑی پرسُوار ہوکر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جونپور پہنچے ۔
حیرت انگیزقوتِ حافِظہ
    صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا حافظہ بَہُت مضبوط تھا ۔ حافِظہ کی قوت، شوق و محنت اور ذِہانت کی وجہ سے تمام طلبہ سے بہتر سمجھے جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے ۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی ۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ'' کافیہ'' کی عبارت زَبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہو گا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں یاد کر لی!
تدریس کا آغاز
    صوبہ بہار(ہند پَٹنہ)میں مدرسہ اھلسنّت ایک ممتاز درس گاہ تھی جہاں مُقتَدِر (مُق۔تَ۔دِر)ہستیاں اپنے علم وفضل کے جوہر دکھا چکی تھیں ۔خود صدرالشَّریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے استاذِ محترم حضرت مُحدِث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی برسوں وہاں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ چکے تھے ۔مُتَولّی مدرَسہ قاضی عبدالوحید مرحوم کی درخواست پر حضرت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے مدرسہ اھلسنّت ( پَٹنہ) کے صدر مُدَرِّس کے لئے صدرُالشَّریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاذ ِمحترم کی دعاؤں کے سائے میں'' پٹنہ ''پہنچے اور پہلے ہی سبق میں عُلوم کے ایسے دریا بہائے کہ عُلَماء وطَلَبہ اَش اَش کراُٹھے ۔قاضی عبدالوحید علیہ رحمۃُ اللہِ المجیدجو خُود بھی مُتَبَحِّر(مُ۔تَ۔بَح۔حِر) عالم تھے نےصدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کی علمی وَجاہت اور انتِظامی صلاحیَّت سے مُتَأَثِّر ہوکر مدرَسہ کے تعلیمی اُمور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سِپُرد کر دئیے۔
Flag Counter