کچھ عرصہ بعد قاضی عبدالوحید علیہ رحمۃ اللہ المجیدبانی مدرسہ اھلسنّت( پَٹنہ) شدید بیمار ہوگئے ۔ قاضی صاحب ایک نہایت دیندار ودین پر وررئیس تھے،علمِ دین سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اِنگریزی تعلیم میںB.A تھے۔ انکے والد انھیں بیرسٹری کے امتحان کے لئے لندن بھیجنا چاہتے تھے لیکن قاضی صاحِب کے مقدس مَدَنی جذبات نے یورپ کے مُلحدانہ گندے ماحول کو سخت نا پسند کیا ۔چُنانچِہ آپ نے اس سفر سے تحریز فرمایا اور ساری زندگی خدمتِ دین ہی کو اپنا شعار بنایا ۔انکی پرہیزگاری اور مَدَنی سوچ ہی کی کشِش تھی کہ میرے آقا اعلٰیحضرت،اِمامِ اَھلسنّت، ولی نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیم المَرْتَبت،پروانہِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیعت ، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن اورحضرت قبلہ مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی جیسے مصروف بُزُرگانِ دین قاضی صاحِب کی عیادت کے لئے کَشاں کَشاں روہیلکھنڈ سے پٹنہ تشریف لائے۔ اسی موقع پر حضرت صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے پھلی بار میرے آقااعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی زیارت کی ۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ بے اختیار صدرُ الشریعہ ،بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا دل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف مائل ہوگیااور اپنے استاذِ محترم حضرت سیِّدُنا مُحدِّث سُورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے مشورے سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت سے بَیعَت ہوگئے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت اور سیِّدی محدِث سورَتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھماکی موجودَگی میں ہی قاضی صاحب نے وفات پائی۔اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃربِّ العزّت نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور محدِّث سورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے قبر میں اُتارا ۔اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ھماری مغفِرت ہو۔