Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-75 - 278
ملازمت کی چپقلش سے بیزار ہوچکے تھے ۔معاش کے لئے کسی مناسب مشغلہ کی جستجو تھی ۔والد محترم کی نصیحت یاد آئی کہ ع میراثِ پدر خوا ہی علمِ پدر آموز(یعنی والد کی میراث حاصل کرنا چاہتے ہوتو والد کا علم سیکھو)خیال آیا کہ کیوں نہ علم طب کی تحصیل کر کے خاندانی پیشہ طبابت ہی کو مشغلہ بنائیں ۔چنانچہ شوال ۱۳۲۶؁ھ میں لکھنؤ جا کر دو سال میں علم طب کی تحصیل وتکمیل کے بعد وطن واپس ہوئے اور مطب شروع کر دیا ۔ خاندانی پیشہ اور خداداد قابلیت کی بنا پر مطب نہایت کامیابی کے ساتھ چل پڑا۔
    صدر ِ شریعت اعلیٰ حضرت کی بارگاہِ عظمت میں
    ذریعہ معاش سے مطمئن ہوکر جُمادِی الاوُلیٰ ۱۳۲۹؁ھ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی کام سے'' لکھنؤ ''تشریف لے گئے۔وہاں سے اپنے اُستاذِ محترم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ''پیلی بھیت'' حاضر ہوئے ۔حضرت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا ہونہار شاگرد تدریس چھوڑکر مطب میں مشغول ہوگیا ہے تو انہیں بے حد افسوس ہوا۔چُونکہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا ارادہ بریلی شریف حاضِر ہونے کا بھی تھا چُنانچِہ بریلی شریف جاتے وقت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک خط اِس مضمون کا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں تحریر فرمادیا تھا کہ'' جس طرح ممکن ہو آپ اِن (یعنی حضرت صدرُ الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی) کو خدمتِ دین وعلمِ دین کی طرف مُتوجِّہ کیجئے۔'' جب میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے درِ دولت پر حاضِری ہوئی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت لطف وکرم سے پیش آئے اور ارشاد فرمایا: ''آپ یہیں قِیام کیجئے اور جب تک میں نہ کہوں واپَس نہ جائیے۔'' اور دل بستگی کے لئے کچھ تحریری کام وغیرہ سِپُرد فرما دئیے ۔تقریباً دوماہ بریلی شریف میں قیام رہا اور میرے آقااعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صحبت میں علمی اِستِفادہ اور دینی مذاکَرہ کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ رَمضانُ المبارَک قریب آگیا ۔صدر ُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے گھر جانے کی اجازت طلب کی تومیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا :''جائیے !لیکن جب کبھی میں بلاؤں تو فوراً چلے آئیے ۔ ''
مُرشدِ کامل کامنظورِ نظر امجد علی

		اِس پہ دائم لطف فرما چشمِ حق بینِ رضا
 طَبابت سے دینی خدمت کی طرف مُراجَعَت
    صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی خود فرماتے ہیں : میں جب اعلیٰ حضرت امامِ اھلِسنّت مجددِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد
Flag Counter