| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
وتلاوتِ قراٰن کے بعد گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پریس کا کام انجام دیتے۔پھر فوراً مدرَسہ جاکر تدریس فرماتے ۔ دوپَہَر کے کھانے کے بعد مُستَقِلا کچھ دیر تک پھر پریس کا کام انجام دیتے۔ نماز ِظہر کے بعدعَصر تک پھر مدرَسہ میں تعلیم دیتے ۔بعد نَمازِ عصر مغرِب تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں نشست فرماتے۔بعدِ مغرِب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں فتوٰی نَویسی کا کام انجام دیتے ۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں آرام فرماتے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے اخیر زمانہ حیات تک یعنی کم وبیش دس برس تک روزمرَّہ کا یہی معمول رہا۔حضرتِصدرُالشَّریعہ۔،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی اس محنت شاقّہ وعزم واستقلال سے اُس دَور کے اکابِر علماء حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بھائی حضرت ننھے میاں مولانا محمد رضاخان علیہ رحمۃاللہ الحنّان فرماتے تھے کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔
مصنِّف بھی، مقرِّر بھی، فَقیہِ عصرِ حاضِر بھی وہ اپنے آپ میں تھا اک ادارہ علم و حکمت کا
ترجَمہ کنزالایمان
صحیح اور اَغلاط سے مُنَزَّہ(مُ۔نَز۔زَہ) احادیثِ نَبوِیّہ واقوالِ ائمّہ کے مطابِق ایک ترجَمہ کی ضَرورت محسوس کرتے ہوئے آپ نے ترجمہ قراٰن پاک کے لئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی بارگاہ ِعظمت میں درخواست پیش کی توارشاد فرمایا:''یہ تو بہت ضَروری ہے مگر چھپنے کی کیا صورت ہوگی؟ اس کی طَباعت کا کون اہتِمام کریگا؟ باوُضو کاپیوں کو لکھنا ،باوُضو کاپیوں اور حُرُوفوں کی تصحیح کرنا اور تصحیح بھی ایسی ہو کہ اِعراب نُقطے یا علامتوں کی بھی غلطی نہ رہ جائے پھریہ سب چیزیں ہوجانے کے بعد سب سے بڑی مشکِل تو یہ ہے کہ پریس مین ہمہ وقت باوُضورہے،بِغیر وُضو نہ پتھّر کو چھوئے اور نہ کاٹے، پتھّر کا ٹنے میں بھی احتیاط کی جائے اور چھپنے میں جو جوڑیاں نکلی ہیں انکو بھی بَہُت احتیاط سے رکھا جائے ۔آپ نے عرض کی:''اِن شاءَ اللہ جو باتیں ضروری ہیں ان کو پوری کرنے کی کوشِش کی جائے گی، بِالفرض مان لیا جائے کہ ہم سے ایسا نہ ہو سکا تو جب ایک چیز موجود ہے تو ہو سکتا ہے آئندہ کوئی شخص اس کے طبع کرنے کا انتِظام کرے اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانے میں کوشش کرے اور اگر اس وقت یہ کا م نہ ہوسکاتو آئندہ اس کے نہ ہو نے کا ہم کو بڑا افسوس ہو گا ۔''آپ کے اس معروض کے بعد تر جَمہ کا کا م شروع کر دیا گیا بِحَمدِ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مَساعی جمیلہ سے خاطر خواہ کا میا بی ہوئی اور آج مسلمانوں کی کثیر تعداد مُجدِّداعظم،