صدرُ الشَّریعہ کا خطاب کس نے دیا؟
الملفوظ حصّہ اول صَفْحَہ183مطبوعہ مکتبۃ المدینہ میں ہے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے فرمایا: آپ مَوجودِین میں تَفَقُّہ (تَ۔ فَق ۔ قُہْ) جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی صاحِب میں زیادہ پائیے گا،اِس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اِستِفتاء سنایا کرتے ہیں اور جو میں جواب دیتا ہوں لکھتے ہیں ، طبیعت اَخّاذ ہے، طرز سے واقِفِیَّت ہوچلی ہے ۔''میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے ہی حضرت مولانا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو صدرُ الشَّریعہ کے خطاب سے نوازا ۔
اٹھا تھا لے کے جو ہاتھوں میں پرچم اعلیٰ حضرت کا
وہ مِیرِکارواں ہے کاروانِ اھلسنّت کا
ایک دن صبح تقریباً9بجے ،میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَھلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن مکان سے باہَر تشریف لائے، تخت پرقالین بچھانے کا حکم فرمایا ۔ سب حاضِرین حیرت زدہ تھے کہ حضور یہ اِہتمام کس لئے فرمارہے ہیں!پھرمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت ایک کرسی پر تشریف فرماہوئے اور فرمایا کہ میں آج بریلی میں دارُ القَضاء بریلی کے قِیام کی بنیاد رکھتا ہوں اور صدرُ الشریعہ کواپنی طرف بلاکر ان کا داہنا ہاتھ اپنے دستِ مبارَک میں لے کر قاضی کے منصب پر بٹھا کر فرمایا:''میں آپ کو ہندوستان کے لئے قاضی شَرع مقرَّر کرتا ہوں ۔مسلمانوں کے درمیان اگر ایسے کوئی مسائل پیدا