| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
ہوں جن کا شرعی فیصلہ قاضی شَرع ہی کرسکتا ہے وہ قاضی شَرعی کا اختیار آپ کے ذمّے ہے ۔''پھرتاجدارِ اھلسنّت مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مصطَفٰے رضاخان علیہ رحمۃ المنّان اوربُرہانِ ملّت حضرتِ علامہ مفتی محمد برہانُ الحق رضوی علیہ رحمۃ القوی کو دارالقَضاء بریلی میں مفتی شَرع کی حیثیَّت سے مقرر فرمایا ۔پھر دُعا پڑھ کر کچھ کلمات ارشاد فرمائے جن کا اقرار حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے کیا ۔ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ربِّ الورٰی نے دوسرے ہی دن قاضی شَرع کی حیثیَّت سے پھلی نِشَست کی اور وِراثَت کے ایک معامَلہ کا فیصلہ فرمایا۔
یہ ساری برکتیں ہیں خدمتِ دینِ پیمبر کی
جہاں میں ہر طرف ہے تذکرہ صدرِشریعت کااعلٰی حضرت کےجنازے کے لئے وصیت
وَصایا شریف صَفْحَہ24 پر ہے کہ مجدِّدِ اعظم ،اعلیٰ حضرت ،امامِ اھلِسنّت، مجدّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنی نَمازِ جنازہ کے بارے میں یہ وصیَّت فرمائی تھی ۔ ''المنّۃُ المُمْتازہ'' ۱؎ میں نمازِ جنازہ کی جتنی دعائیں منقول ہیں اگر حامد رضا کویاد ہوں تو وہ میری نماز ِجنازہ پڑھائیں ورنہ مولوی امجدعلی صاحِب پڑھائیں ۔ حضرتِ حُجَّۃُ الْاِسلام(حضرت مولیٰنا حامد رضا خان) چُونکہ آپ کے'' وَلی ''تھے اسلئے انکو مقدَّم فرمایا،وہ بھی مَشرُوط طور پر اور انکے بعدمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی نگاہِ انتخاب اپنی نمازِ جنازہ کے لئے جس پر پڑی وہ بھی بلا شرط، وہ ذات صدرُ الشَّریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہ الغنی کی تھی۔اسی سے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سے مَحَبَّت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔
آستانہ مُرشد سے وفا
ایک مرتبہ کسی صاحِب نے تاجدارِ اھلسنّت مفتی اعظم ہندشہزادہ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے سامنے صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے اپنا کوئی گھر نہیں بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا ۔وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التَّعداد طَلَبہ کے اُستاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابِض