Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-70 - 278
رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں کرنے دیا۔''
یہ میرے مُرشِد کا کرم ہے
چنانچہ دار العلوم معینیہ عثمانیہ (اجمیر شریف) میں وہاں کے صدرُ المدَرِّسین ہو کر جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پہنچے اور وہاں کے لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندازِ تدریس سے بَہُت مُتأَثِّر ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رُوبرو اس کا ذِکر آیا کہ آپکی تعلیم بہت کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے یہ مرکزی دارالعلوم سر بلند ہوتا جارہا ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''یہ مجھ پر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کا فضل وکرم ہے۔ ''
             باغِ عالم کاہو منظر کیوں نہ رنگین و حَسین

                               گوشے گوشے سے ہیں طِیب اَفشاں رِیاحینِ رضا
صدرِ شریعت کی صحبت کی عظمت
    تلمیذ وخلیفہ صدر الشریعہ حضرت مولانا سیِّد ظہیر احمد زَیدی علیہ رحمۃ اللہ الھادی لکھتے ہیں :مجھے سات سال کے عرصے میں اَن گنت بار مولانا کی خدمت میں حاضری کا موقعہ ملا لیکن میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلسوں کو ان عُیُوب سے پاک پایا جو عام طور سے بِلاامتیازِ عوام وخواص ھمارے مُعاشَرے کا جُز و بن گئے ہیں مَثَلاً غیبت،چغلی،دوسروں کی بدخواہی،عیب جوئی وغیرہ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی نہایت مقدَّس و پاکیزہ تھی، مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی میں دَرَوغ بیانی(یعنی جھوٹ بولنے) کا کبھی شائبہ بھی نہیں گزرا۔جہاں تک میری معلومات ہے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معمولات قراٰن وسنّت کے مطابِق تھے ،گفتگو بھی نِہایت مہذَّب ہوتی ،کوئی ناشائستہ یا غیر مُہذَّب لفظ استعمال نہ فرماتے ،اسی طرح معاملات میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت صاف تھے۔آپ کا ہرمُعامَلہ شریعت مُطَہَّرہ کے اَحکام کے ماتحت تھا۔''دادوں ''(علی گڑھ)میں قیام کے دوران کامیں عَینی شاہد ہوں کہ آپ نے کبھی کسی کے ساتھ بدمُعامَلگی نہ کی، نہ کسی کا حق تلف کیا۔
   بلندی پر ستارہ کیوں نہ ہو پھر اُس کی قسمت کا

                               دیا امجد نے جس کو درس قانونِ شریعت کا
Flag Counter