Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-69 - 278
صَبْر وتحمل
    بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم شمسُ الہُدٰی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہو گیا تو صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی اُس وقت نمازِ تراویح ادا کر رہے تھے ۔اطلاع دی گئی تشریف لائے ۔
''اِنا للہ وانا الیہ راجعون ''
پڑھا اور فرمایا :ابھی آٹھ رَکعت تراویح باقی ہیں،پھر نَماز میں مصروف ہوگئے۔
سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں آ کر فرمایا:
     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شہزادی ''بنو'' سخت بیمار تھیں۔ اِس دَوران ایک دن بعد نمازِ فجر حضرت صدر الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے قراٰن خوانی کے لیے طَلَبہ و حاضِرین کو روکا۔ بعدِ ختم ِقراٰنِ مجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجلس کو خطاب فرمایا کہ میری بیٹی'' بنو'' کی علالت(بیماری) طویل ہو گئی ، کوئی علاج کارگر نہیں ہوا اور فائدے کی کوئی صورت نہیں نکل رہی ہے، آج شب میں نے خواب دیکھاکہ سروَرِ کونین ، رحمتِ عالم روحی فداہ گھر میں تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ''بنو ''کو لینے آئے ہیں۔ سیِّدالانام حضورِ اکرم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو خواب میں دیکھنا بھی حقیقت میں بِلا شُبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کو دیکھنا ہے ۔ بنو کی دنیُوَی زندگی اب پوری ہوچکی ہے ۔ مگر وہ بڑی ہی خوش نصیب ہے کہ اسے آقا و مولیٰ ، رحمتِ عالم، محبوبِ ربُّ الْعٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لینے کے لیے تشریف لائے اور میں نے خوشی سے سِپرد(سِ۔پُرد) کیا۔دعائے خیر کے بعد مجلسِ قراٰن خوانی ختم ہو گئی۔ غالباً اُسی دن یا دوسرے دن بنو کا انتِقال ہو گیا۔اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ھماری مغفِرت ہو۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
شہزادگان پر شفقت
    شہزادگان پر شفقت کا جو عالم تھا وہ شہزادہ صدر الشَّریعہ،شیخ الحدیثِ وَالتفّسیر حضرتِ علامہ عبدُ المصطفے ازہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے مضمون میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔چُنانچِہ آپ فرماتے ہیں: میں خدمتِ اقدس میں حاضِر تھا۔ مولانا ثَناء ُالمصطفے ،مولانابَہاء ُالمصطفے ،مولانافِداء ُالمصطفے،اس وَقت بَہُت چھوٹے بچّے تھے،وہ گنّا (گنڈیری ) لے کر آتے اور کہتے:'' انا جی اسے گلا بنادو۔''یعنی اسے چھیل کر کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیجئے۔حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے پیار محبت سے مسکرا کر گنا ہاتھ میں لیکر چاقو سے اسے چھیلتے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے ان لوگوں کے منھ میں ڈالتے۔
Flag Counter