(صَحِیحُ البُخارِی،ج۱ص۲۴۱ ،حدیث ۶۷۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اِسی سنّت پر عمل کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی گھر کے کام کاج سے عار(شرم) محسوس نہ فرماتے بلکہ سنّت پر عمل کرنے کی نیّت سے ان کو بخوشی انجام دیتے۔ـ
صدرُالشَّریعہ کاسنّت کے مطابِق چلنے کا انداز
تَلمِیذ وخلیفہ صدرِ شریعت، حافظِ ملت حضرتِ علامہ مو لانا عبد العزیز مبارَک پوری علیہ رحمۃ اللہ القوی بیان کرتے ہیں: حضورِ سیِّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم راستہ چلتے تو رفتار سے عظمت ووقار کا ظہور ہوتا، دائیں بائیں نگاہ نہ فرماتے ،ہر قدم قُوَّت کے ساتھ اٹھاتے، چلتے وَقت جسمِ مبارَک آگے کی طرف قَدرے جُھکا ہوتا، ایسا لگتا گویا اونچائی سے نیچے کی طرف اُ تررہے ہوں۔ ھمارے استاذِ محترم صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سنّت کے مطابِق راستہ چلتے تھے، ان سے ہم نے علم بھی سیکھا اور عمل بھی۔ یہی حضرتِ حافِظِ ملّت فرماتے ہیں:'' میں دس سال حضرتِ صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کی کفش برداری(یعنی خدمت) میں رہا، آپ کو ہمیشہ مُتَّبِع سنّت پایا۔ ؎
جس کی ہر ہر ادا سنّتِ مصطَفٰے
ایسے صدرِ شریعت پہ لاکھوں سلام
سفر ہو یا حَضَرصدرُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کبھی نَماز قضاء نہ فرماتے۔ شدید سے شدید بیماری میں بھی نماز ادا فرماتے ۔ اجمیر شریف میں ایک بار شدید بُخار میں مبتَلا ہوگئے یہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی ۔دوپَہَر سے پہلے غشی طاری ہوئی اور عصر تک رہی۔حافِظ ملّت مولانا عبدُالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ خدمت کے لیے حاضِر تھے، صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا :کیا وقت ہے ؟ ظہرکا وقت ہے یا نہیں ؟حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے عرض کی کہ اتنے بج گئے ہیں اب ظہر کا وَقت نہیں۔یہ سن کر اتنی اَذِیَّت پہنچی کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے ۔حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے دریافت کیا :کیاحُضور کو کہیں درد ہے ،کہیں تکلیف ہے ؟فرمایا:''(بَہُت بڑی)''تکلیف ہے کہ ظہر کی نَماز قَضاء ہوگئی۔''حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے عرض کی :حُضور بیہوش تھے۔بیہوشی کے عالم میں نَماز قضا ہونے پر کوئی مُؤاخَذَہ (قیامت میں پوچھ