Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-67 - 278
گچھ)نہیں ۔فرمایا:آپ مُؤاخَذَہ کی بات کررہے ہیں وقتِ مُقَررہ پر دربارِ الٰہی عزوجل کی ایک حاضِری سے تو محروم رہا۔
نمازِ باجماعت کا جذبہ
    حضرتِ صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس پربَہُت سختی سے پابند تھے کہ مسجد میں حاضِر ہو کر باجماعت نماز پڑھیں ۔ بلکہ اگر کسی وجہ سے مؤذِّن صاحِب وقتِ مقرَّرہ پر نہ پہنچتے تو خود اذان دیتے۔ قدیم دولت خانے سے مسجد بِالکل قریب تھی وہاں تو کوئی دِقّت نہیں تھی لیکن جب نئے دولت خانے قادِری منزل میں رہائش پذیر ہوئے تو آس پاس میں دو مسجدیں تھیں۔ایک بازار کی مسجد دوسری بڑے بھائی کے مکان کے پاس جو'' نوّاکی مسجد'' کے نا م سے مشہور ہے ۔یہ دونوں مسجدیں فاصلے پر تھیں۔ اس وقت بینائی بھی کمزور ہو چکی تھی ،بازار والی مسجد نِسبتاً قریب تھی مگر راستے میں بے تکی نالیاں تھیں۔ اسلئے ''نوا کی مسجد ''نماز پڑھنے آتے تھے۔ایک دَفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی نَماز کے لئے جا رہے تھے ،راستے میں ایک کُنواں تھا،ابھی کچھ اندھیرا تھا اور راستہ بھی ناہموار تھا ،بے خیالی میں کُنوہں پر چڑھ گئے قریب تھا کہ کنویں کے غار میں قدم رکھدیتے ۔اتنے میں ایک عورت آگئی اور زور سے چِلائی !''ارے مولوی صاحِب کُنواں ہے رُک جاؤ!ورنہ گر پڑیو!'' یہ سنکر حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قدم روک لیا اور پھر کنویں سے اتر کر مسجِد گئے۔اس کے باوُجود مسجد کی حاضِری نہیں چھوڑی۔
بیماری میں بھی روزہ نہ چھوڑا
    ایک بار رَمَضانُ المبارَک میں سخت سردی کا بخار چڑھ گیا۔اس میں خوب ٹھنڈ لگتی اور شدید بخار چڑھتا ہے نیز پیاس اتنی شدّت سے لگتی ہے کہ نا قابلِ برداشت ہوجاتی ہے ۔ تقریباً ایک ہفتہ تک اِس بخار میں گرفتار رہے۔ظہر کے بعد خوب سردی چڑھتی پھر بخار آجاتا مگر قربان جایئے! اس حال میں بھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
    شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :میرے والِدِ ماجِد مرحوم ابتِداء نَوعُمری میں بہت بڑے تاجِر تھے اور حساب کے ماہِر،صدرالشَّریعہ ان کو بلا کر(زکوٰۃکا) پورا حساب لگواتے ۔ پھر انھیں سے کپڑے کا تھان منگا کر عورتوں کے لائق الگ مردوں بچوں کے لائق الگ اور سب کے مناسب قطع کراکے تقسیم فرماتے۔کوئی سائل کبھی دروازے سے خالی واپس نہ جاتا، بہت بڑے مھمان نواز اورعُموماً مھمان آتے رہتے سب کے شایانِ شان کھانے پینے
Flag Counter