Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-66 - 278
، اُٹھنے بیٹھنے اور آرام کا اہتمام فرماتے ۔مھمانوں کے لئے خصوصیت سے ان کی ضروریات کی چیزیں ہر وقت گھر میں رکھتے ۔
دُرودِ رضویہ پڑھنے کا جذبہ
    کتنی ہی مصروفیت ہو نَمازِ فجر کے بعد ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حزب(باب) دلائلُ الخیرات شریف پڑھتے، اس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا ، اور بعدِنَمازِ جمعہ بلا ناغہ 100بار دُرودِ رضویہ پڑھتے ۔ حتّٰی کہ سفر میں بھی جمعہ ہوتا تو نمازِ ظہر کے بعد دُرودِ رضویہ نہ چھوڑتے، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کرپڑھتے۔ ٹرین کے مسافر اِس دیوانگی پر حیرت زدہ ہوتے مگر انہیں کیا معلوم۔ ؎
دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا

                               دیوانہ بہت سوچ کے دیوانہ بنا ہے

ا
اِصلاح کرنے کا انداز
    اولاد اور طلبہ کی عملی تعلیم وتربیت کا بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُصُوصی خیال فرماتے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا تقویٰ وَتَدیُّن(یعنی دین داری) اس اَمر کا مُتَحَمِّل(مُ۔تَ۔حَم۔مِل) ہی نہ تھا کہ کوئی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے خِلافِ شرع کام کرے اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم میں طَلَبہ یا اولاد کے بارے میں کوئی ایسی بات آتی جو احکامِ شریعت کے خِلاف ہوتی توچِہرہ مبارَکہ کا رنگ بدل جاتا تھا،کبھی شدید ترین بَرہمی کبھی زَجروتَوبیخ(ڈانٹ ڈَپَٹ) اور کبھی تَنبِیہ وسزا اور کبھی مَوعِظہ حَسَنہ غرض جس مقام پر جو طریقہ بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مناسِب خیال فرماتے استِعمال میں لاتے تھے۔
خواب میں آ کر رہنمائی
    خلیلِ ملّت حضرتِ مفتی محمد خلیل خان برکاتی علیہ رحمۃ الباقی فرماتے ہیں: طَلَبہ کی طرف التِفاتِ تام(یعنی بھر پور توجُّہ )کا اندازہ اس واقِعہ سے لگایئے کہ فقیر کو ایک مرتبہ ایک مسئلہ تحریرکرنے میں اُلجھن پیش آئی،الحمد للہ میرے استاذِ گرامی،حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے خواب میں تشریف لا کر ارشاد فرمایا:'' بہارِ شریعت کافُلاں حصہ دیکھ لو ۔'' صبح کو اُٹھ کر بہارِ شریعت اٹھائی اور مسئلہ (مَس۔ئَ۔لہ)حل کر لیا۔ وصال شریف کے بعد فقیر نے خواب میں دیکھا کہ حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی درسِ حدیث دے رہے ہیں، مسلم شریف سامنے ہے اورشَفاف لباس میں ملبوس تشریف فرما ہیں ، مجھ سے فرمایا: آؤ تم بھی مسلم شریف پڑھ لو۔
Flag Counter