Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-62 - 278
العلماء گھوسی تشریف لائے (حضرت صدرالشریعہ کے) عُرس شریف کے اجلاس میں دورانِ تقریر اپنی مسلسل غیر حاضِری کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ ( یعنی حضرت مجاہدِ ملّت ) نے فرمایا کہ عُرس شریف کی آمدپر مجھے ہر سال الحمد للہ عزوجل صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ کی زِیارت خواب میں ہوتی رہتی ہے جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے طلب فرمانا چاہتے ہیں ۔ مگر چندضَروری مصروفیات عین وَقت پر ہمیشہ رُکاوٹ بن جایا کرتی تھیں۔ امسال بھی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کی خواب میں جلال بھرے انداز میں زیارت نصیب ہوئی۔ یہی معلوم ہو رہا تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرا انتظار فرمارہے ہیں ۔ اِسی دَوران عرسِ امجدی کا دعوت نامہ بھی موصول ہوا ۔ اب بَہَر صورت حاضر ہونا تھا اورہو گیا ۔ ابھی سلسلہ تقریر جاری تھا۔۔۔۔ کہ آپ( یعنی مجاہدِ ملّت ) اچانک مزار ِاقدس کی طرف مُتَوَجِّہ ہو گئے اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ رِقّت انگیز لہجے میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے مُعافی کے خواستگا رہوئے۔ مجاہدِ ملت کا بیان ختم ہونے کے بعدحضرتِ حافظِ ملت مولیٰنا عبدالعزیز علیہ رحمۃ القوی نے تقریر شروع کی۔ دَورانِ تقریر بے ساختہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زَبان سے یہ جملہ صادر ہوا کہ حضرتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بِلا شبہ ولی تھے وہ اب بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے پہلے تھے ابھی ابھی حضرت مجاہدِ ملت نے ان کا دیدار کیا۔ اتنا فرماتے ہی حضرت حافظِ ملّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سنھبل گئے اور فورا اپنی تقریر کا رُخ موڑ دیا۔چُنانچِہ جو حضرات مُتَوَجِّہ تھے اور جنہیں حضر ت حافظِ ملت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کشف و کرامات نیز اندازِبیان کا علم تھا وہ عُقدہ حل کر(یعنی گُتھی سُلجھا)چکے تھے اور انہیں یقین ہو گیا کہ حافظِ ملّت اور مجاہدِ ملّت رَحِمَھمااللہ تعالٰی جنہیں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃسے خصوصی قُرب حاصل ہے ان دونوں حضرات کو اس وقت حضرتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃکاسر کی آنکھوں سے دیدار نصیب ہوا۔ ؎
                               کون کہتا ہے ولی سب مر گئے

                              قید سے چھوٹے وہ اپنے گھر گئے
بہارِ شریعت
     صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کاپاک وہندکے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ضخیم عربی کُتُب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کوسِلکِ تحریر میں پِرَو کر ایک مقام پر جمع کردیا ۔انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہامسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے ۔ان میں بے شمار مسائل ایسے بھی ہیں جن کا سیکھنا ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن پر فرضِ عَین ہے۔اس کی تصنیف کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ رحمۃربِّ
Flag Counter