بعدِ وفات حضرتِ صدُر الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ربِّ الورٰی کے وُجود ِ مسعودکو بذریعہ ٹرین بمبئی سے مدینۃُ العُلَماء گھوسی لے جایا گیا ۔ وہیں آپ کا مزارِ مبارک مرجعِ خواص وعوام ہے۔
قَبْر شریف کی مِٹّی سے شِفاء مل گئی
مدینۃُ العلَماء گھوسی کے مولانا فخر الدّین کے والِدِ محترم مولانا نِظامُ الدّین صاحِب کے گُردے میں پتھری ہو گئی تھی۔انہوں نے ہر طرح کا علاج کیا لیکن کوئی فائدہ حاصِل نہ ہوا۔ بالآخِرصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ علیہ رحمۃ اللہ القوی کی قبرِ انور کی مِٹی استعمال کی جس سے الحمد للہ عزوجل ان کے گردے کی پتھری نکل گئی اور شِفاء حاصِل ہو گئی۔
درِامجد سے منگتا کو برابر بھیک ملتی ہے
گدا پہنچے،تونگر، یاسوالی علم و حکمت کا
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دفن ہونے کے بعد کئی روز بارِش ہوتی رہی چُنانچِہ قبرِ انور پر چٹائیاں ڈال دی گئیں ۔جب 15دن کے بعد مزار تعمیر کرنے کے لئے وہ چٹائیاں ہٹائی گئیں تو خوشبو کی ایسی لپٹیں اٹھیں کہ پوری فَضا معطّر ہو گئی۔یہ خوشبو مسلسل کئی دن تک اٹھتی رہی۔
حقیقت میں نہ کیوں اللہ کا محبوب ہو جائے
نہ کھویا عمر بھر جس نے کوئی لمحہ عبادت کا
وفات کے بعد صدرُالشَّریعہ کابیداری میں دیدار ہو گیا!
شہزادہ صدرالشریعہ ، محدِّثِ کبیرحضرتِ علامہ ضیاء المصطَفٰے مصباحی مدظلہ فرماتے ہیں: غالِباً 1391ھ یا1392ھ کا واقِعہ ہے کہ طویل غیر حاضری کے بعد حضرتِ مجاہدِ ملّت مولیٰنا حبیبُ الرحمن اِلہ آبادی علیہ رحمۃ الھادی عرسِ امجدی میں مدینۃ