Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-61 - 278
 الورٰی لکھتے ہیں:''اردو زبان میں اب تک کوئی ایسی کتاب تصنیف نہیں ہوئی جو صحیح مسائل پر مشتمل ہو اور ضَروریات کے لئے کافی ووافی ہو۔'' 

    فقہِ حنفی کی مشہور کتاب فتاوٰی عالمگیری سینکڑوں عُلَمائے دین علیہم رحمۃ اللہ المبین نے حضرت سیِّدُنا شیخ نظام ُالدّین مُلاجِیوَن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگرانی میں عَرَبی زَبان میں مُرَتَّب فرمائی مگر قُربان جائیے کہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے وُہی کام اُردُوزبان میں تنِ تنہا کردکھایا اور علمی ذَخائر سے نہ صرف مُفتیٰ بِہٖ اقوال چُن چُن کر بہارِ شریعت میں شامل کئے بلکہ سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث بھی مُوضوع کی مناسَبَت سے دَرج کیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُود تحدیثِ نعمت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں:''اگر اَورنگزیب عالمگیر اس کتاب (یعنی بہارِ شریعت) کو دیکھتے تو مجھے سَونے سے تولتے ۔''

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مقصد یہ تھا کہ بَرِّصَغیر کے مسلمان اپنے دین کے مسائل سے بآسانی آگاہ ہوجائیں چُنانچِہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :''اس کتاب میں حتَّی الوَسع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بَہُت آسان ہو کہ سمجھنے میں دِقَّت نہ ہو اور کم علم اور عورَتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دُشواریاں باِلکل جاتی رہیں ضَروربَہُت مَواقِع ایسے بھی رہیں گے کہ اھلِ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنانَفع ضَرور ہو گا کہ اس کا بیان انھیں مُتَنَبِّہ (مُ۔تَ۔نَب۔بِہ۔یعنی خبردار)کریگا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رُجوع کی توجُّہ دلائے گا۔''

    اِس کتاب کا عرصہ تصنیف تقریباً ستائیس ۲۷ سال کے عرصے پرمُحیط ہے۔ یاد رہے کہ 27 سال کا یہ مطلب نہیں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان سالوں میں ہمہ وقت تصنیف میں مشغول رہے بلکہ تعطیلات میں دیگر اُمُور سے وقت بچا کر یہ کتاب لکھتے جس کے سبب اس کی تکمیل میں خاصی تاخیر ہو گئی چُنانچِہ آپ بہارِ شریعت حصّہ17 کے اختِتام پر بعنوان ''عرضِ حال''میں لکھتے ہیں:''اس کی تصنیف میں عُمُوماً یہی ہوا کہ ماہ رمضان مبارَک کی تعطیلات میں جو کچھ دوسرے کاموں سے وقت بچتا اس میں کچھ لکھ لیا جاتا۔''
بُزُرگوں کے الفاظ بابرکت ہوتے ہیں
    صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بہارِ شریعت میں مسائل بیان کر کے کئی جگہ فتاوٰی رضویہ شریف کا حوالہ دیا ہے بلکہ بہارِ شریعت حصّہ 6میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کا
Flag Counter