لکھا ہوا حج کے احکام پر مشتمل رسالہ'' انورالبشارہ'' پورا شامل کرلیا ہے اور عقیدت تو دیکھئے کہ کہیں بھی الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تا کہ ایک ولیئ کامل کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کی برکتیں بھی حاصل ہوں چُنانچِہ لکھتے ہیں: اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ، العزیز کا رسالہ'' انورالبشارہ ''پورا اس میں شامل کر دیاہے یعنی متفرق طور پر مضامین بلکہ عبارتیں داخلِ رسالہ ہیں کہ اَوَّلاً :تبرک مقصود ہے ۔دُوُم: اُن الفاظ میں جو خوبیاں ہیں فقیر سے ناممکن تھیں لہٰذا عبارت بھی نہ بدلی۔ (بہارِ شریعت حصّہ 6ص 203مکتبۃ المدینہ،باب المدینہ کراچی )
صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی مسائلِ شرعِیَّہ کو بہارِ شریعت کے20 حِصّوں میں سمیٹنا چاہتے تھے مگر مکمَّل نہ کرسکے اور اس کی متَعَلِّق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے'' عرضِ حال'' میں تفصیل بیان کی ہے اور یہ وصیَّت فرمائی ہے کہ : ''اگر میری اولاد یا تَلامِذہ یا عُلَماء اھلسنّت میں سے کوئی صاحِب اس کاقلیل حصّہ جو باقی رہ گیا ہے اُس کی تکمیل فرمائیں تو میری عَین خوشی ہے۔ '' چُنانچِہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا خواب شرمندہ ئ تعبیر ہوااور اس کے بقیّہ تین حصّے بھی چَھپ کر منظر عام پر آ چکے ۔
اِس تصنیف کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ا علیٰ حضرت علیہ رحمۃ ُ ربِّ العزّت نے بہار ِشریعت کے دوسرے، تیسرے اور چوتھے حصّے کا مُطالَعَہ فرماکرجو کچھ تحریر فرمایا تھا وہ پڑھنے کے قابل ہے چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:الحمدﷲ مسائلِ صَحیحہ رَجِیحَہ مُحقَّقہ مُنَقَّحَہ پر مشتمل پایا ،آجکل ایسی کتاب کی ضَرورت تھی کہ عوام بھائی سَلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں اور گمراہی و اَغلاط کے مَصنوع ومُلَمَّع زَیوروں کی طرف آنکھ نہ اُٹھائیں۔''