Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-54 - 278
23 تَقلید :کسی کے قول وفعل کواپنے اوپرلازم شرعی جاننا یہ سمجھ کرکہ اس کاکلام اوراس کاکام ھمارے لیے حجت ہے کیونکہ یہ شرعی محقق ہے،جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کاقول وفعل اپنے لیے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظرنہیں کرتے۔ (ماخوذازجاء الحق ،ص ۲۲)

٭شرعی مسائل تین طرح کے ہیں (۱)عقائد ،ان میں کسی کی تقلید جاءزنہیں (۲)وہ احکام جوصراحۃً قرآن پاک یا حدیث شریف سے ثابت ہوں اجتہاد کوان میں دخل نہیں ،ان میں بھی کسی کی تقلید جاءز نہیں جیسے پانچ نمازیں ،نماز کی رکعتیں ،تیس روزے وغیرہ (۳)وہ احکام جوقرآن پاک یا حدیث شریف سے استنباط و اجتہادکرکے نکالے جائیں ،ان میں غیرمجتہد پرتقلید کرناواجب ہے ۔ (ماخوذازجاء الحق ص۲۵،۲۶)

24 قیاس :قیاس کا لغوی معنی ہے اندازہ لگانا،اور شریعت میں کسی فرعی مسئلہ کواصل مسئلہ سے علت اورحکم میں ملادینے کو قیاس کہتے ہیں۔ (ماخوذ ازجاء الحق،ص۴۳)

25 بِدعت :وہ اِعْتِقَادیا وہ اَعمال جو کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے ۔ 

(جاء الحق، ص ۲۲۱)

26 بدعت مذمومہ :جوبدعت اسلام کے خلاف ہو یاکسی سنت کومٹانے والی ہووہ بدعت سیئہ ہے۔ 

(جاء الحق ،ص ۲۲۶)

27 بدعت مکروہَہ :وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جاوے اگرسنت غیرمؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے اوراگرسنت مؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تحریمی ہے۔ (جاء الحق، ص ۲۲۸)

28 بدعت حَرام وہ نیاکام جس سے کوئی واجب چھوٹ جاوے،یعنی واجب کومٹانے والی ہو۔ (جاء الحق ،ص ۲۲۸)

29 بدعت مستحبہ :وہ نیاکام جوشریعت میں منع نہ ہواوراس کوعام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یاکوئی شخص اس کونیت خیرسے کرے ،جیسے محفل میلاد وغیرہ۔ (جاء الحق، ص ۲۲۶)

30 بدعت جاءِز (مُبَاح) :ہروہ نیاکام جوشریعت میں منع نہ ہواوربغیرکسی نیتِ خیرکے کیاجاوے جیسے مختلف قسم کے کھانے کھاناوغیرہ۔ (جاء الحق ،ص ۲۲۶)

31 بدعت واجب :وہ نیاکام جوشرعاًمنع نہ ہواور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو،جیسے کہ قرآن کے اعراب اوردینی مدارس اورعلمِ نحو وغیرہ پڑھنا۔ (جاء الحق ،ص ۲۲۸)