Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-52 - 278
حصہ دوم (۲) کی اصطلاحات
1 عبادتِ مَقْصودہ :وہ عبادت جوخودبالذات مقصود ہوکسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو، مثلاً نماز وغیرہ۔(ماخوذازبہارشریعت ،حصہ۵ ،ص۱۵۰)

2 عبادتِ غیرمقصودہ :وہ عبادت جوخودبالذات مقصودنہ ہوبلکہ کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ ہو۔ 

(ماخوذازبہارشریعت ،حصہ۵ ،ص۱۵۰)

3 فرض : جودلیل قطعی سے ثابت ہویعنی ایسی دلیل جس میں کوئی شُبہ نہ ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۳)

4 دلیل قطعی :وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴)

5 فرض کفایہ :وہ ہوتاہے جوکچھ لوگوں کے اداکرنے سے سب کی جانب سے اداہوجاتاہے اورکوئی بھی ادانہ کرے توسب گناہ گارہوتے ہیں ۔جیسے نمازجنازہ وغیرہ۔ (وقارالفتاوی، ج ۲، ص ۵۷)

6 واجب :وہ جس کی ضرورت دلیل ظنّی سے ثابت ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴)

7 دلیل ظنی :وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے نہ ہو،بلکہ احادیث احاد یامحض اقوال ائمہ سے ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت ،ج۱،ص۲۰۴)

8 سنت مؤکدہ :وہ ہے جس کوحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہوالبتہ بیان جواز کے لیے کبھی ترک بھی کیاہو۔(فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴)

9 سنّتِ غیر مؤکدہ :وہ عمل جس پر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مداومت(ہمیشگی) نہیں فرمائی ،اور نہ اس کے کرنے کی تاکیدفرمائی لیکن شریعت نے اس کے ترک کو ناپسند جاناہواور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے وہ عمل کبھی کیاہو ۔ (ماخوذازبہارشریعت ،حصہ۲،ص ۵وفتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴)

10 مُستحب :وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگرترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ (بہارشریعت حصہ۲ص ۵)

11 مُباح :وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔     (بہارشریعت ،حصہ۲،ص ۵)

12 حرام قطعی :جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً ثابت ہو،یہ فرض کا مُقابِل ہے۔

(رکن دین، ص۴،وبہارشریعت ،حصہ۲،ص ۵)
Flag Counter