11 عَصْبہ:اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کاحصہ مقرر نہیں ،البتہ اصحاب فرائض کودینے کے بعد بچاہواما ل لیتے ہیں اوراگر اصحاب فرائض نہ ہوں تومیت کاتمام مال انھی کاہوتاہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت، حصہ ۲۰،ص ۲۴)
12 ذَوِی الْاَرْحام :قریبی رشتہ دار،اس سے مراد وہ رشتہ دارہیں جونہ تواصحاب فرائض میں سے ہیں اورنہ ہی عصبات میں سے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت، حصہ ۲۰،ص۴۷)
13 لَحد:قبرکھود کراس میں قبلہ کی طرف میّت کے رکھنے کی جگہ بنانے کولحد کہتے ہیں۔ (ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ۴،ص۱۹۲ )
14 شُفعہ:غیرمَنْقول جائیداد کوکسی شخص نے جتنے میں خریدااُتنے ہی میں اس جائیدادکے مالک ہونے کاحق جودوسرے شخص کوحاصل ہوجاتاہے اس کو شفعہ کہتے ہیں۔ (بہارشریعت، حصہ ۱۵، ص۴۷)
15 جماعت نوافل بِالتّد اعِیْ :تداعی کالغوی معنی ہے ایک دوسرے کوبلانا جمع کرنا،اورتداعی کے ساتھ جماعت کامطلب ہے کہ کم ازکم چار آدمی ایک امام کی اقتداکریں۔(دیکھئے تفصیل فتاوی رضویہ، ج۷،ص ۴۳۰۔۴۳۷)
16 دارُالْحَرب :وہ دار جہاں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی یاہوئی اورپھرایسی غیرقوم کا تسلُّط ہوگیاجس نے شعائراسلام مثل جمعہ وعیدین واذان واقامت وجماعت یک لَخْت اٹھادئیے اورشعائرکُفرجاری کردئیے ،اورکوئی شخص اَمان اول پرباقی نہ رہے اوروہ جگہ چاروں طرف سے دارالاسلام میں گِھری ہوئی نہیں تووہ دارالحرب ہے۔ (ماخوذازازفتاو ی رضویہ، ج۱۶، ص۳۱۶،ج۱۷،ص۳۶۷)
٭دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی شرائط : دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی تین شرطیں ہیں (۱)اھل شرک کے احکام علی الاعلان جاری ہوں اور اسلامی احکام بالکل جاری نہ ہوں (۲)دارالحرب سے اس کااِتّصال ہوجائے(۳)کوئی مسلم یاذمی امان اول پر باقی نہ ہو۔ (فتاوی امجدیہ ،حصہ۳، ص۲۳۲)
17 دَارُ الاسلام :وہ ملک ہے کہ فی الحال اس میں اسلامی سلطنت ہویااب نہیں توپہلے تھی اورغیرمسلم بادشاہ نے اس میں شعائراسلام مثل جمعہ وعیدین واذان واقامت وجماعت باقی رکھے ہوں تووہ دارالاسلام ہے۔(فتاوی رضویہ ،ج۱۷،ص ۳۶۷)
18 صلٰوۃُ الاَوَّابِین:نمازِ مغرب کے بعدچھ رکعت نفل پڑھنا۔ (ماخوذازبہارشریعت ،حصہ۴،ص۱۵)