Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-39 - 278
27 خیارِعیب:بائع کا مبیع کو عیب بیان کئے بغیر بیچنا یامشتری کا ثمن میں عیب بیان کیے بغیر چیز خریدنااور عیب پر مطلع ہونے کے بعداس چیز کے واپس کردینے کے اختیار کو خیار عیب کہتے ہیں۔(ماخوذازبہارشریعت، حصہ۱۱، ص۶۰)

28 خراج مُقاسمہ :اس سے مرادیہ ہے کہ پیداوارکاکوئی آدھاحصہ یاتہائی یاچوتھائی وغیرہامقررہو۔ 

(ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۳۷)

29 خراج مؤظّف :اس سے مرادیہ ہے کہ ایک مقدارمعیّن لازم کردی جائے خواہ روپے یاکچھ اورجیسے فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقررفرمایاتھا۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص۲۳۷)

30 ذمی  :اس کافرکوکہتے ہیں جس کے جان ومال کی حفاظت کابادشاہ اسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیاہو۔

(فتاوی فیض الرسول، ج۱،ص۵۰۱) 

31 مستامن :اس کافر کوکہتے ہیں جسے بادشاہ اسلام نے امان دی ہو۔     (فتاوی فیض الرسول، ج۱،ص۵۰۱)

32 بیگھہ:زمین کا ایک حصہ یا ٹکڑا جس کی پیمائش عموما تین ہزار پچیس (۳۰۲۵)گز مربع ہوتی ہے،(اردو لغت،ج۲،ص۱۵۶۰) چارکنال ،۸۰ مرلے۔ (فیروز اللغات ،ص۲۷۱)

33 جَرِیب:جریب کی مقدارانگریزی گزسے ۳۵ گز طول اور۳۵ گزعرض ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۳۹)

34 بیع وفا:اس طورپربیع کرناکہ جب بائع مشتری کوثمن واپس کرے تومشتری مبیع کوواپس کردے۔

(ماخوذ ازبہارشریعت ،حصہ۵،ص۵۵)

35 فقیر :وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہومگرنہ اتناکہ نصاب کوپہنچ جائے یانصاب کی مقدار ہوتواس کی حاجت اصلیہ میں استعمال ہورہا ہو۔ (ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ۵،ص۵۹)

36 مسکین:وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہویہاں تک کہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کامحتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔ (بہارشریعت، حصہ۵،ص۵۹)

37 عامِل :وہ ہے جسے بادشاہ اسلام نے زکاۃ اورعُشروصول کرنے کے لیے مقررکیاہو۔

(بہارشریعت، حصہ۵،ص۵۹)

38 غارِم:اس سے مراد مدیون (مقروض)ہے یعنی اس پراتنادین ہوکہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے۔ 

(بہارشریعت، حصہ۵،ص۶۱)

39 اِبْن سَبِیْل:ایسا مسافر جس کے پاس مال نہ رہاہو اگرچہ اس کے گھرمیں مال موجودہو۔ (بہارشریعت، حصہ۵،ص۶۱)