22 رکن شامی ::یہ ملک شام کی سمت شمال مغربی کونہ ہے ۔ (ایضاً)
23 رکنِ یَمانی:یہ یمن کی جانب مغربی کو نہ ہے ۔ (ایضاً)
24 بابُ الکعبہ:رکن اسودا ور رکن عراقی کے بیچ کی مشرقی دیوار میں زمین سے کافی بلند سو نے کا دروازہ ہے ۔(ایضاً)
25 مُلْتَزَم:رکن اسوداور باب الکعبہ کی درمیانی دیوار ۔ (ایضاً، ص۳۶ ،۳۷)
26 مُسْتَجار:رکن یمانی او رشامی کے بیچ میں مغربی دیوار کا وہ حصہ جو ''ملتزم'' کے مقابل یعنی عین پیچھے کی سیدھ میں واقع ہے۔
(ایضاً، ص ۳۷)
27 مُسْتَجاب:رکن یمانی اور رکن اسود کے بیچ کی جنوبی دیوار یہاں ستر۰ ۷ ہزار فرشتے دعاپر اٰمین کہنے کے لئے مقرر ہیں ۔ اسی لئے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے اس مقام کانام ''مستجاب ''(یعنی دعا کی مقبولیت کا مقام )رکھا ہے ۔ (ایضاً)
28 حَطِیم:کعبہ معظمہ کی شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل میں فصیل (یعنی باؤنڈری )کے اندر کا حصہ ''حطیم''کعبہ شریف ہی کاحصہ ہے اور اس میں داخل ہونا عین کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہونا ہے ۔(ایضاً)
29 مِیْزاب رَحْمت:سونے کا پر نالہ یہ رکنِ عراقی وشامی کی شمالی دیوار پر چھت پر نصب ہے اس سے بارش کاپانی ''حطیم ''میں نچھا ور ہوتا ہے ۔ (ایضاً، ص۳۷۔۳۸)
30 مَقامِ اِبراھیم:دروازہ کعبہ کے سامنے ایک قبہ میں وہ جنتی پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت سیدنا ابراھیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے کعبہ شریف کی عمارت تعمیر کی اور یہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زندہ معجزہ ہے کہ آج بھی اس مبارک پتھر پر آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدمین شریفین کے نقش موجود ہیں ۔(ایضاً، ص۳۸)
31 بِیرِزَم زَم:مکہ معظمہ کا وہ مقدس کنواں جو حضرت سیدنا اسماعیل علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عالم طفولیت میں آپ کے ننھے ننھے مبارک قدموں کی رگڑ سے جاری ہوا تھا ۔ اس کا پانی دیکھنا ، پینا اور بدن پر ڈالنا ثواب اور بیماریوں کے لئے شفاہے۔ یہ مبارک کنواں مقام ابراہیم (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) سے جنوب میں واقع ہے ۔ (ایضاً)
32 بابُ الصَّفا:مسجد الحرام کے جنوبی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے ۔جس کے نزدیک ''کوہ صفا ہے ''۔ (ایضاً)