Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
-32 - 278
47 حَرَم :مکہ معظمہ کے چارو ں طر ف میلوں تک اس کی حدود ہیں اور یہ زمین حرمت وتقدس کی وجہ سے ''حرم''کھلاتی ہے۔ ہر جانب اس کی حدو د پرنشان لگے ہیں حرم کے جنگل کا شکار کرنا نیز خود رو درخت اور تر گھاس کا ٹنا ، حاجی ، غیر حاجی سب کے لئے حرام ہے۔ جو شخص حدو د حرم میں رہتا ہوا سے ''حَرمی''یا ''اھل حرم ''کہتے ہیں ۔ (رفیق الحرمین، ص۴۱)

48 حِل:حدو د حرم سے باہر میقات تک کی زمین کو ''حِل ''کہتے ہیں ۔ اس جگہ وہ چیزیں حلال ہیں جو حرم میں حرام ہیں ۔ جو شخص زمینِ حل کا رہنے والا ہو اسے ''حلّی ''کہتے ہیں ۔ (ایضاً، ص۴۲)

49 مِنٰی:مسجد الحرام سے پا۵نچ کلو میٹر پروہ وادی جہا ں حاجی صاحبان قیام کرتے ہیں ''مِنٰی''حرم میں شامل ہے ۔ (ایضاً) 

50 جَمَرات:منی میں تین۳ مقامات جہا ں کنکریاں ماری جاتی ہیں پہلے کا نام جمرۃُ العَقَبۃہے ۔ اسے بڑا شیطا ن بھی بولتے ہیں۔ دوسرے کو جمرۃ الوسطی (منجھلا شیطان) اور تیسرا کو جمرۃ الاُولی (چھوٹا شیطان) کہتے ہیں ۔ (ایضاً)

51 عَرَفات:منیٰ سے تقریباًگیا۱۱رہ کلو میٹر دور میدان جہاں ۹ذوالحجہ کو تمام حاجی صاحبان جمع ہوتے ہیں ۔ عرفات حرم سے خارج ہے۔ (ایضاً)

52 جَبَلِ رَحمت  :عرفات کا وہ مقدس پہاڑ جس کے قریب وقوف کرنا افضل ہے ۔ (ایضاً، ص۴۲)

53 مُزْدَلِفَہ:''منیٰ''سے عرفات کی طرف تقریبا ًپا۵نچ کلو میٹر پر واقع میدا ن جہاں عرفات سے واپسی پررات بسر کرتے ہیں ۔سنت او رصبح صادق اور طلو ع آفتاب کے درمیان کم از کم ایک لمحہ وقوف واجب ہے ۔(ایضاً، ص۴۲۔۴۳)

54 مُحَسِّر:مزدلفہ سے ملاہوا میدان ، یہیں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہو ا تھا ۔لھذا یہاں سے گزرتے وقت تیزی سے گزرنا سنت ہے ۔ (ایضاً، ص۴۳)

55 بطنِ عُرَنہ:عرفات کے قریب ایک جنگل جہاں حاجی کا وقوف درست نہیں ۔ (ایضاً)

56 مَدْعٰی:مسجد حرام او رمکہ مکرمہ کے قبر ستا ن ''جنت المعلی '' کے مابین جگہ جہاں دعا مانگنا مستحب ہے ۔(ایضاً)

57 دَم:یعنی ایک بکرا (اس میں نر ، مادہ ، دنبہ ، بھیڑ ، نیز گائے یااونٹ کا ساتو اں حصہ سب شامل ہیں)۔(ایضاً، ص۲۲۸)