Brailvi Books

بدنصیب دُولھا
23 - 29
برقع اپنا لیااور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئی۔میرے گھر والے ، رشتے دار اور میری سہیلیاں میری اس حیرت انگیز تبدیلی پَر انتہائی حیران تھے۔ ان سب کو یہ سب خواب لگ رہا تھا مگر یہ سب حقیقت تھا۔

     اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دینا بھی شروع کردیا۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کاموں میں شامل رہتی ہوں اور پابندی سے مدنی انعامات کے رسالے کے خانے پُر کرکے ہر ماہ جمع کرواتی ہوں۔ایک روزمیرے پیر و مرشِد امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی نسبت کی برکت سے مجھ پَر رَبّ عَزَّوَ جَلّ َ کا ایسا کرم ہوا جس کا میں جتنا شکر کروں کم ہے۔ہوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے میں کمرے میں جس سمت بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ۔میں بے ساختہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادل نظر آتے ہیں میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شروع کردیتی ہوں،

            اے صبا مصطفی سے کہہ دینا(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم)

            غم کے مارے سلام کہتے ہیں

    اچانک میرے سامنے ایک حسین و جمیل ،بہت ہی نورانی بزرگ سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز عمامہ سجائے تشریف لے آئے ۔چہرے پر تبسم کے آثار تھے ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی''یہ حضور اکرم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں''پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میں بہت روئی دل چاہتا تھا کہ آنکھیں