باب المدینہ)کراچی ( کی ایک اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میں پہلے بہت زیادہ فیشن ایبل تھی ، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لُطف آتا۔ آس پڑوس کی شادیوں میں رسمِ مہندی کے موقع پَر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا۔ وہاں میں دوسری لڑکیوں کوڈانس اور ڈانڈیاسکھاتی تھی۔ ایک سے بڑھ کرایک گانے مجھے زبانی یا د تھے۔ آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے مجھ سے گانا سنانے کی فرمائش کی جاتی ۔(والعیاذ باللہ )
ویسے میں کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لیتی اور رمضان المبارَک میں روزے بھی رکھ لیتی تھی۔بدقسمتی سے گھر میں T.V بہت دیکھا جاتا تھا۔جس کی وجہ سے میں گناہوں سے بچ نہیں پاتی تھی۔مجھے نعتیں پڑھنے کا شوق توتھامگر فضول مشاغل کی وجہ سے نہ پڑھ پاتی ۔ایک بار رَبِیْعُ النُّور شریفکی شام نمازِ مغرب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے ۔ان کے ہاتھ میں تین کیسٹ تھے جن میں امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا