رات گھر کی طرف آتے ہوئے اثنائے راہ سبز سبز عماموں کی بہاریں نظر آئیں ،قریب گیا تو پتا چلا کہ بمبئی سے دعوتِ اِسلامی والے عاشقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافلہ آیا ہوا ہے جس کے سبب یہاں سنّتوں بھرا اجتماع ہو رہا ہے ،میرے دِل میں آیا کہ یہ لوگ طویل سفر کرکے ہمارے شہر کلکتہ آئے ہیں ،ان کو سننا چاہے لہٰذا میں اجتماع میں شریک ہوگیا ، اختتام پر ان حضرات نے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے بانٹنے شروع کئے،خوش قسمتی سے ایک رسالہ میرے ہاتھ میں بھی آگیا ،اس پر لکھا تھا،بھیانک اونٹ ۔ میں گھر آگیا کل پڑھوں گا یہ ذہن بنا کر رسالہ رکھ دیا اور سونے کی تیاری کرنے لگا ، سونے سے قبل یونہی رسالہ بھیانک اونٹ کا جب ورق پلٹا تو میری نظر اس عبارت پر پڑی ''شیطان لاکھ سستی دِلائے مگر یہ رسالہ ضرور پڑھ لیجیے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے اندر مَدَنی اِنقِلاب برپا ہوجائے گا ۔''اس جملہ نے میری زبردست رہنمائی کی میں نے سوچا ،واقعی شیطان مجھے یہ رسالہ کہاں پڑھنے دے گا ،کل کس نے دیکھی ہے !نیکی میں دیر نہیں کرنی چاہے ،اس کو ابھی پڑھ لینا چاہیے ،یہ سوچ کر میں نے پڑھنا شروع کیا ، اس پاک پَرْوَرْدْ گا ر عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے دربار عالی میں حاضِر ہو کر بروزِ قیامت حساب دینا پڑے گا ! جب میں نے رسالہ بھیانک اونٹ پڑھا تو اس میں کفار ِ نابکار کی جانب سے حضورِ پاک،