شارح بخاری علامہ ابن حجرعسقلانی علیہ رحمۃاللہ الغنی(اَ لْمُتَوَفّٰی۸۵۲ھ) فتح الباری میں لکھتے ہیں :''اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے کاموں سے بچا جائے جو کسی کو بدگُمانی میں مبتلا کرسکتے ہوں۔عُلَمَاء ومُقْتَدٰیٰ ہستیوں کو تو بطور خاص ہر اس کام سے بچنا چاہے جس کی وجہ سے لوگ ان سے بدظن ہوجائیں اگرچہ اس کام میں ان کے لئے خُلاصی کی راہ موجود ہو کیونکہ بدظن ہونے کی صورت میں لوگ ان کے علم سے نفع نہیں اٹھا پائیں گے۔(فتح الباری ،الحدیث ۲۰۳۵،ج۴،ص۲۴۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2)اَرَنْڈِی کا تیل
ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۸۲ھ) ''حیاتِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ'' میں رقم طرازہیں: مولانا سید ایوب علی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا بیان ہے برسات کا موسم تھا، عشا ء کے وقت ہوا کے تیز جھونکے ' مسجِد کے کڑوے تیل کا چراغ باربار گل کردیتے تھے ،جس کے روشن کرنے میں بارش کی وجہ سے سخت دِقّت ہوتی تھی۔ اور اسکی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ خارِج مسجد دیا سلائی جلانے کا حکم تھا ۔اس زمانہ میں ناروے کی دیا سلائی استعما ل کی جاتی تھی ،جس کے روشن