ہُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ ۚوَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾
کہنے سے فوراً وسوسہ دُور ہوجاتا ہے ۔
سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْخَلاَّقِ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذْہِبْکُمْ وَیَاۡتِ بِخَلْقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۱۷﴾
کی کثرت اسے (یعنی وسو سے کو) جڑ سے قطع کردیتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ ،ج۱،ص۷۷۰)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!
اگراوراد ووظائف پڑھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اِختِیار کرنے کے باوُجُود بدگُمانی کے مرض سے جان نہ چھوٹے تو گھبرائیے نہیں بلکہ مسلسل کوشش جاری رکھئے ۔حضرت سیدنا اِمام محمد غزالی علیہ رحمۃ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں :''اگر تم محسوس کرو کہ شیطان، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگنے کے باوُجُود تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتا