Brailvi Books

بدگمانی
49 - 64
مجھ پر اس کے باطنی حالات کی تفتیش واجِب نہیں ہے ،اگر یہ واقعتا اسی شے میں مبتلا ہے جو میرے دِل میں آئی تو یہ اس کا اور اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کا معاملہ ہے اور اگر یہ اس شے سے محفوظ ہے تو میں بدگُمانی میں مبتلا رہ کر عذابِ نار کا حق دار کیوں بنوں۔ حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''بے شک ظن غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح بھی ۔''(الدرالمنثور،ج۷،الحجرٰت تحت الآیۃ ۱۲، ص ۵۶۵)

    حجۃ الاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں:''جب تمہارے دِل میں کسی کے بارے میں بدگُمانی آئے تو تمہیں چاہے کہ اس کی طرف دھیان نہ دو اور اس بات پر مضبوطی سے قائم رہو کہ اس شخص کا حال تم سے پوشیدہ ہے اور جو تم نے اس کے بارے میں دیکھا ہے اس میں اچھی اور بُری دونوں باتوں کا احتمال ہے ۔''(احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان،ج۳،ص۱۸۶)

    علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ)لکھتے ہیں : جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو(یعنی اس کے نیک ہونے کا بھی احتمال ہو اور بد ہونے کا بھی )تو اس سے حسنِ ظن رکھنامستحب اور اس کے بارے میں بدگُمانی حرام ہے۔اور جب معاملہ بَہُت پیچیدہ ہوجائے (یعنی نہ تو حسنِ ظن رکھا جاسکے اورنہ بدگُمانی کی شرعی اِجازت کی