اپنے کام سے کام رکھنے کی عادت بنائیے اور دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں نہ رہے ،ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ بدگُمانی پیدا ہی نہیں ہونے پائے گی ۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ''لوگوں سے منہ پھیر لو کیا تم نہیں جانتے کہ اگرتم لوگوں میں شک کے پیچھے چلو گے توانہیں فسادمیں ڈال دو گے۔''
(المعجم الکبیر ،الحدیث۷۵۹،ج۱۹،ص۳۶۵)
حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللہ اصفہانی علیہ رحمۃ اللہ الوالی (اَ لْمُتَوَفّٰی۴۳۰ھ)حلیۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں :حضرت سیدنا بکر بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کسی بوڑھے آدمی کو دیکھتے تو فرماتے: ''یہ مجھ سے بہتر ہے اور مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عبادت