Brailvi Books

بدگمانی
46 - 64
    میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ کسی کے ظاہِری لباس کی سادگی دیکھ کر اسے حقیر نہیں جاننا چاہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ'' گُدڑی کا لعل ''ہو ۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' بَہُت سے بوسید ہ کپڑے والے ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پراللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی قسم کھالیں تو اللہ (عَزَّوَجَلَّ)ان کی قسم پوری فرماتا ہے۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبان ،کتاب المعجزات ،باب من ابطل وجود المعجزات ...الخ،الحدیث ۶۴۴۹ج۸،ص۱۳۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
گُمانوں سے بچو
     اِمامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن

(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ)نے فرمایا :ایک مرتبہ اِمام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تنہا ایک گدڑی پہنے مدینہ طیبہ سے کعبہ معظمہ کو تشریف لیے جاتے تھے اور ہاتھ میں صرف ایک تاملوٹ(ٹِین کا برتن) تھا۔حضرت شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا (تو)دِل میں خیال کیا کہ یہ فقیر 'اوروں پراپنا بار ڈالنا چاہتا ہے ۔یہ وسوسہ شیطانی آنا تھا کہ اِمام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :شفیق بچو گُمانوں سے بعض گُمان گناہ ہوتے ہیں۔'' نام بتانے اور وسوسہ دلی پر آگا ہی سے نہایت عقیدت ہوگئی اور اِمام کے ساتھ ہولئے۔ راستہ میں
Flag Counter