بات ہے کہ سیدنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی پرآپ کے معمولاتِ شب (یعنی نوافل اور وظائف وغیرہ)دشوار ہوگئے اور کسی کام میں جی بھی نہیں لگ رہا تھا ۔آپ بَہُت دیر تک یونہی جاگتے رہے بالآخر آپ پر نیند کا غلبہ ہوا اور آپ کی آنکھ لگ گئی ۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اسی فقیر کو لایا گیا ہے اور ایک دسترخوان پر ڈال دیا گیا اور مجھ سے کہا جارہا ہے کہ اس کا گوشت کھا، تونے اس کی غیبت کی ہے، مجھ پر حقیقتِ حال واضح ہوگئی(یعنی میں سمجھ گیا کہ اس فقیر کے بارے میں بدگُانی کرنے کے بارے میں تنبیہہ کی جارہی ہے)۔میں نے عرض کی:''میں نے اس کی غیبت نہیں کی ،ہاں! اس سے متعلق دِل میں کچھ ایسا سوچا تھا ۔'' جواب ملا:''تم ان لوگوں میں سے نہیں،جن سے ہم اس قدر بھی گوارا کریں جاؤ اس بندے سے معافی مانگو۔'' آپ علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں : ''صبح میں اس کی تلاش میں نکلا ،وہ دریا کے کنارے مجھے مل گیااورسبزیاں دھونے والے جو پتے وہاں چھوڑ جاتے ہیں ،وہ چن رہا تھا۔میں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب دینے کے بعد کہا:''اے ابوالقاسم! پھر ایسا کرو گے؟''میں نے کہا:''نہیں ۔'' اس نے کہا :''جا ؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اور ہمیں معاف فرمائے۔''