Brailvi Books

بدگمانی
44 - 64
اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے مُوَافِق ہو یہ بھی گُمانِ بد میں دَاخِل ہے ۔''(خزائن العرفان،پ۲۶،الحجرٰت ۱۲)
(5)مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنا مُسْتَحَبّ ہے
    علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃ اللہ القوی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ)لکھتے ہیں : جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو(یعنی اس کے نیک ہونے کا بھی اِحْتِمَال ہو اور بد ہونے کا بھی )تو اُس سے حُسنِ ظن رکھنامُسْتَحَبّ اور اُس کے بارے میں بدگُمانی حرام ہے۔
(الحدیقۃ الندیۃ ،ج۲،ص۱۶،۱۷ملخصًا)
عبادت گزار فقیر
    علّامہ عبداللہ بن اسعد یافعی علیہ رحمۃاللہ الوالی(اَ لْمُتَوَفّٰی۷۶۸ھ) لکھتے ہیں :اِمام الطائفہ حضرت سیدنا ابوالقاسم جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی ایک مرتبہ مسجد شونیزیہ میں بیٹھے کسی جنازے کا اِنتظار کر رہے تھے ،اور بھی بَہُت سے باشندگانِ بغداد وہاں موجود تھے ۔آپ نے وہاں ایک فقیر کو دیکھا جس کے چہرے سے عبادت وریاضت کے آثار نُمایاں تھے ۔وہ لوگوں سے سُوال کررہا تھا۔حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی نے سوچا کہ اس کے بجائے اگر یہ کوئی ایسا کام کرتا جس کے سبب یہ لوگوں سے سُوال کرنے کی آفت سے بچ جاتا تو بہتر تھا ۔ اسی شب کی
Flag Counter