علّامہ عبداللہ بن اسعد یافعی علیہ رحمۃاللہ الوالی(اَ لْمُتَوَفّٰی۷۶۸ھ) لکھتے ہیں :اِمام الطائفہ حضرت سیدنا ابوالقاسم جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی ایک مرتبہ مسجد شونیزیہ میں بیٹھے کسی جنازے کا اِنتظار کر رہے تھے ،اور بھی بَہُت سے باشندگانِ بغداد وہاں موجود تھے ۔آپ نے وہاں ایک فقیر کو دیکھا جس کے چہرے سے عبادت وریاضت کے آثار نُمایاں تھے ۔وہ لوگوں سے سُوال کررہا تھا۔حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی نے سوچا کہ اس کے بجائے اگر یہ کوئی ایسا کام کرتا جس کے سبب یہ لوگوں سے سُوال کرنے کی آفت سے بچ جاتا تو بہتر تھا ۔ اسی شب کی